خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 307
خطبات ناصر جلد سوم ۳۰۷ خطبه جمعه ۲۸ /اگست ۱۹۷۰ء فرمایا گیا ہے کہ غیب پر ایمان لاؤ۔غیب اپنے معنی کی وسعت کے لحاظ سے اس کی application (اپلی کیشن ) یعنی جہاں جہاں اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے لحاظ سے بڑا وسیع ہے اور نسبتی بھی ہے فرد فرد کے لئے اور ایک عام انسان کے لئے بھی ہے ہر انسان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل کا علم نہیں رکھتا۔پس وہ مستقبل بنی نوع انسان کے لئے غیب ہے یعنی جو بھی مستقبل ہے وہ غیب ہے ماضی کے دھند لکے بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ اس قسم کا اندھیرا پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ چیز غیب بن جاتی ہے مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کے حالات، اُن کا زمانہ ، ان کی مشکلات ، ان کی تکالیف، ان کی کوششیں اور جدو جہد اور ان کی کوششوں پر جو ثواب مترتب ہوئے ان کی تفصیل ہے لیکن ہمیں ان کا علم نہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِي (المجادلة: ۲۲) میرے رسول ہمیشہ غالب آتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کو خواہ کسی قسم کی مشکلات سے واسطہ پڑا ہو آپ غالب ضرور آئے لیکن کیسے غالب آئے یہ ہمارے لئے غیب ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیاب کرنے کے لئے کیا سامان پیدا کئے۔انہیں کس طرح اپنی بعض نعمتوں اور اپنے پیار سے نوازا اس کے متعلق تفصیل کا ہمیں علم نہیں ہے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام غالب آئے۔کہتے ہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہوئے ہیں اور ان میں سے چند ایک کے علاوہ باقی کے تو ہمیں نام کا بھی پتہ نہیں البتہ ہمیں اتنا پتہ ہے کہ اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( فاطر: ۲۵) مگر اس کا بڑا حصہ ماضی سے تعلق رکھتا ہے آئندہ کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے یعنی دنیا میں اور جگہ بھی آبادیاں ہیں وہاں کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے والا ہے؟ اس کا کسی کو پتہ نہیں ہے لیکن یہ یقینی بات ہے کہ ہر امت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ڈرانے والا مبعوث ہوا اور اس پر ہم ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہی غالب ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ان کے لئے غیب تھا یعنی جو بشارتیں ان کو ملی تھیں اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھیں یا کامل طور پر ابھی پوری نہیں ہوئی تھیں اس کے اوپر ایمان رکھتے تھے اور جو ایمان رکھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوئے۔غیب حال کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے مثلاً امریکہ کی کیا حالت ہے۔اس وقت روس کی کیا