خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۶ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء تو مرنے کے بعد کی زندگی ہے اللہ تعالیٰ کا پیار ہے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اللہ تعالیٰ کی بشارتیں ہیں اور ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں گود میں بٹھاتا اور ماتھے کو پیار کرتا ہے ہزاروں آدمیوں کا یہ اپنا ذاتی مشاہدہ ہے اس کو چھوڑ کر کسی ٹٹ پونجیے جاہل نو جوان کی ہنسی اور تمسخر یا فتوے سے ہم گھبرا جائیں گے؟ مولوی محمد حسین بٹالوی کے فتوے سے ہم نہیں گھبرائے جو ظاہری لحاظ سے بہت بڑے عالم تھے اس وقت کے عالموں کی بھی عجیب حالت تھی بڑے علماء کے دو حصے ہو گئے ایک عیسائیت کی گود میں جا پڑا اور دوسرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کفر بازی کے کام میں مشغول ہو گیا اور جو اُن کے کام تھے وہ انہیں بھول گئے انہوں نے نہیں کئے۔خدا کرے کہ آج کی نسل ان سے سبق سیکھے اور عبرت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے ہمارے دل میں تو کسی کے خلاف نہ غصہ ہے نہ نفرت ہے ہم تو سب کے لئے دعا کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور سب سے پیار کرتے ہیں (اردو میں جو اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ) شدید سے شدید معاند کے خلاف بھی ایک لمحہ کے لئے بھی میرے دل میں تو کبھی نفرت اور غصہ پیدا نہیں ہوا میں سمجھتا ہوں کہ کسی بچے احمدی کے دل میں بھی پیدا نہیں ہوتا ہوگا ہمارے دل میں تو رحم پیدا ہوتا ہے ہمارے دل میں تو ” بخع“ کی حالت پیدا ہوتی ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے میں اس وقت اسے بیان نہیں کروں گا اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی تو انشاء اللہ کسی اور وقت اسے بیان کروں گا۔بہر حال ہمیں کسی سے نفرت نہیں ایک نو جوان بڑے جوش میں آئے کہ ہمارے گاؤں کا مولوی ہمیں بہت گالیاں دیتا ہے میں مسکرایا اور اس سے کہا کہ تم جا کر اس کی تسلی کرا دو کہ جتنا چاہو زور لگا لو ہمارے دل میں تم اپنی نفرت پیدا نہیں کر سکتے۔ہمیں خدا نے نفرت کرنے کے لئے پیدا ہی نہیں کیا ہمیں پیار سے ساری دنیا کے دل جیتنے کے لئے پیدا کیا ہے ہم عیسائیوں کے دل جیت رہے ہیں تو وہ جو گاخِر کُنَند دعوي حُبّ پیمبرھ ان کے دل بھی تو ہم نے ہی جیتنے ہیں وہ تو پھر بھی اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں غلطی خوردہ ہیں ، لاعلم ہیں سب کچھ ہیں لیکن منسوب تو ہمارے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتے