خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 268

خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۸ خطبه جمعه ۱۴ /اگست ۱۹۷۰ء کے ساتھ وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس بات ( یعنی جو مضمون بیان ہورہا ہو ) پر ایمان لا ناضروری ہے۔دوسرے ایمان کا لفظ جو عام طور پر اور بڑی کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے اس کے ساتھ آگے تفصیل نہیں ہوتی یہ فرمایا ہے کہ ایمان لاؤ ایمان کا یہ فائدہ ہے ایمان کا یہ ثواب ہے ایمان سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاتا ہے مگر وہاں یہ ذکر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا غیب پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا رسل پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا قرآن کریم پر ایمان لانے کی بات ہورہی ہے وغیرہ۔غرض ایسی صورت میں تفصیل نہیں دی ہوتی اللہ تعالیٰ صرف یہ فرماتا ہے کہ ایمان لاؤ۔دراصل جہاں کہیں بھی ایمان کے لفظ کو اس طریق پر استعمال کیا گیا ہے وہاں ایمان کے تمام تقاضے مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایمان کے جو بھی تقاضے مقرر فرمائے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریح کی ہے ان تقاضوں کو پورا کر نا مراد ہے مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم ایمان لانے والے ہو گے تو کوئی غیر تم پر غالب نہیں آسکے گا۔وَ انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ (ال عمران :۱۴۰) اب یہاں مومن کے لفظ کے ساتھ مؤمن بالله يا مؤمن بالغيب يا مؤمن بالآخرة وغیرہ نہیں ہے بلکہ محض مومن کا لفظ ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نصرت تمہارے شاملِ حال ہوگی اور تم ہی غالب آؤ گے غیر تم پر غالب نہیں آئے گا۔پس جب اللہ تعالیٰ کی ساری محبت اور ساری نصرت اور ساری رحمت اور ساری برکت کو جذب کرنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ٹھہرا تو پھر ہمیں ایمان کے سب تقاضوں کا علم بھی ہونا چاہیے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایمان کے جو مختلف تقاضے بیان فرمائے ہیں ان کے متعلق میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سلسلہ وار کچھ بیان کروں گا۔