خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 265
خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۵ خطبہ جمعہ ۷ راگست ۱۹۷۰ء یہاں محاصرہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں دشمن باہر نکلتا نہیں قلعہ اتنا مضبوط ہے کہ ہمارے لئے ویسے اندر جانا مشکل ہے تم مجھے اُٹھا کر قلعے کی دیوار کے پرے دروازے کے پاس پھینک دو میں وہاں جو سپاہی ہوں گے ان کو مار دوں گا اور قلعہ کا دروازہ کھول دوں گا وہ چونکہ بڑے بزرگ صحابی تھے اس لئے ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم آپ کو کس طرح موت کے منہ میں پھینک دیں ہماری شامت آئی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں میں جو کہتا ہوں کہ مجھے قلعہ کے اندر پھینک دو میں اکیلا کافی ہوں آگے روایتوں میں اختلاف ہو گیا ہے بعض نے کہا ہے کہ ان کے ساتھی مان گئے اور انہوں نے کندھوں پر اٹھا کر ان کے پرلی طرف کو دنے کا سامان کر دیا ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا اچھا میں خود ہی دیوار پر چڑھ جاتا ہوں بہر حال وہ اکیلے دشمن کے قلعے کے اندر گھس گئے۔قلعہ مضبوط اور اس کے اندر ان کی ایسی فوج جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا کیونکہ جنگ ہی کوئی نہیں ہوئی تھی مگر انہوں نے اکیلے خدا کی راہ میں دلیری دکھائی کہ دیوار پھاندی ، اندر گئے پانچ دس آدمی جو دروازے پر محافظ تھے ان کو خدا کے فضل سے قتل کر دیا جس وقت دروازہ کھولنے لگے تو پیچھے سے ان کے اور آدمی آگئے یعنی سینکڑوں کی بات تھی۔اب دروازہ کھلتا یا ان کو پکڑ کر مار دیتے لیکن اس وقت ( یہ خدا کی شان تھی کہ ) قلعہ کے دروازہ پر تالہ نہیں لگا ہوا تھا بلکہ بولٹ ٹائپ کی کوئی چیز تھی اس واسطے جلدی سے دروازہ کھل گیا۔مسلمان فوج اندرآگئی اور قلعے۔قابض ہوگئی گو انہوں نے اندر آ کر بھی دشمن سے لڑائی لڑی لیکن اصل میں تو اس جنگ کو جیتنے والے وہی ایک صحابی تھے۔اُمت مسلمہ کی تاریخ میں یہ ساری چیزیں کیوں ہمیں نظر آتی ہیں؟ اس لئے ہمیں نظر آتی ہیں کہ وہ ایمان کی پختگی پر قائم تھے۔ایسے قائم تھے کہ حضرت خالد بن ولید نے بسا اوقات دشمن کو اپنے خط میں یہ لکھا ہے کہ تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ جزیہ پر صلح کر لو کیونکہ میرے ساتھ وہ فوج ہے جو موت سے اس سے زیادہ پیار کرتی ہے جتنا تم لوگوں کو زندگی سے پیار ہے اور ان کے عمل بھی یہی ثابت کر رہے تھے۔یہی ایمان کی پختگی آج بھی چاہیے آج بھی اسلام کو اسی کی ضرورت ہے۔غلبہ اسلام کا وہ