خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 262

خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۲ خطبہ جمعہ ۷ راگست ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ ایمان کے لفظ کو استعمال کیا ہے اور اس کے بیسیوں شعبے اور بیسیوں شاخیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض کے متعلق شاید میں بعد میں انشاء اللہ بعض خطبات دوں گا آج میں صرف اصولی بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایمان پر پختگی ضروری ہے ور نہ ایمان کا کوئی فائدہ نہیں مثلاً ہمیں بعض مومن ایسے بھی نظر آتے ہیں کہ جو بظاہر دیانت داری کے ساتھ اور اخلاص سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اپنی اس دیانت داری اور اخلاص کے باوجود وہ قبروں پر جا کر سجدہ بھی کر دیتے ہیں یعنی بہت سے ان پڑھ نا سمجھ پورا علم نہ رکھنے والے عوام مسلمان قبروں پر جا کر سجدہ بھی کر دیتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان باللہ پر پختہ ہیں حالانکہ اللہ پر ایمان اور کسی قبر یا قبر والے کا خیال یہ تو اکٹھے نہیں ہو سکتے لیکن عدم علم اور جہالت کے نتیجہ میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ اپنے خدا کو دھوکہ نہیں دے رہے ہوتے البتہ اپنے نفس کو ضرور دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں ) کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لانے کے راستے میں قبر کا سجدہ روک نہیں ہے۔ایک بڑی موٹی مثال ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے ایمانوں پر پختگی سے قائم ہوں چنانچہ جب ہم صحابہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ کس قدر پختہ ایمان تھا ان کا ، ہر اس شعبہ اور شاخ کے متعلق کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔قریباً ۳۸ یا ۴۰ سالہ دور ہے ہجرت کے بعد کا خلافتِ راشدہ کے اختتام تک اس زمانہ پر اگر آپ اس نقطۂ نگاہ سے نظر ڈالیں کہ صحابہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے جن لوگوں نے صحیح اور کامل اور پوری تربیت حاصل کی انہوں نے کیا کردار ادا کیا تو آپ کو نظر آئے گا کہ وہ اسلام کی روح رواں تھے وہ اُمت مسلمہ کی جان اور ریڑھ کی ہڈی تھے ان کے بغیر اُمت مسلمہ کا جسم بھی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اوپر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی روح رواں بنیں کیونکہ انہوں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ تربیت حاصل کی ہوئی تھی وہ لوگ جو صحابہ کہلائے گو بعد میں تو اُمّتِ مسلمہ کے علماء اور فقہاء نے صحابی کی تعریف بہت نرم کر دی تا کہ صحابیوں کے