خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 236
خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۶ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء میں بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی تکلیفیں پیش آئیں تو ان سے گھبرا کر اپنے خاوندوں کا وقت ضائع کرنے کی کوشش نہ کریں اور انہیں صراط مستقیم سے ہٹانے کا موجب نہ بنیں۔سوم :۔وہ ایسے علوم حاصل کریں کہ وہ بھی جب اپنے خاوندوں کے ساتھ باہر جائیں تو دین کا کام بھی کرنے والی ہوں۔صرف گھر کو سنبھالنے والی نہ ہوں اور یہ بہت سے طریقوں سے ہوسکتا ہے۔اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جانا چاہتا۔میں نے بتایا تھا کہ غانا میں ہمارے انچارج مبلغ کلیم صاحب کی بیوی بالکل ان پڑھ تھیں جب وہ ان کے ساتھ باہر گئیں لیکن چونکہ مخلص اور اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والی تھیں اُنہوں نے منصورہ بیگم کو خود بتایا کہ میں نے سوچا میں ایک ان پڑھ عورت ایک مبلغ انچارج کی بیوی کی حیثیت میں یہاں آئی ہوں اردو بھی ٹھیک طرح مجھے نہیں آتی انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتی میں اپنے مبلغ خاوند کے ساتھ کیسے تعاون کروں گی اور ان کا کس طرح ہاتھ بٹاؤں گی وہ کہنے لگیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی اور میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ تم انگریزی اور اس قسم کی جو دنیا میں اور مشہور زبانیں ہیں وہ نہ سیکھو بلکہ وہاں کی مقامی زبان ( لوکل ڈائیلیکٹ ) جو ہے وہ سیکھ لو۔چنانچہ انہوں نے مقامی زبان سیکھنی شروع کر دی اور اس میں بڑی اچھی مہارت حاصل کی اور پھر سارا دن بچے اور بچیوں کو قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھاتی رہتی تھیں۔ان کے میاں باہر دوسری نوعیت کا تبلیغی کام کرتے تھے اور یہ گھر میں بیٹھ کر گھر بھی سنبھالتیں اور بچوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی تھیں۔پس اگر اس قسم کا دل ایک احمدی بچی میں ہو اور ایسا ہی دل ہر احمدی بچی میں ہونا چاہیے تو پھر اسے خود سوچ کر دعائیں کرنے کے بعد اس قدر علم حاصل کر لینا چاہیے کہ جو باہر کے ممالک میں اسلام کے غلبہ کی اللہ تعالیٰ نے جو مہم چلائی ہے اس میں ممد و معاون ثابت ہو۔ہمارے احمدی ڈاکٹر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہیں۔پہلے تو شاید کم ہوتے ہوں گے لیکن اس سال کا میرا جواندازہ ہے وہ یہ ہے کہ سارے مغربی پاکستان میں ہمارے ۳۰،۲۰ احمدی بچے انشاء اللہ ڈاکٹری کا امتحان پاس کر کے ڈاکٹر بنیں گے اور موجودہ صورت میں بہت سارے تو باہر بھی چلے گئے ہیں کچھ مزید پڑھنے کے لئے اور کچھ نوکر یاں کرنے کے لئے لیکن پھر بھی پاکستان