خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 235
خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء یہ بشارتیں ہمیں حاصل ہیں اس لئے ہم کھڑے ہو کر جماعت سے یہ کہتے ہیں کہ آگے بڑھو اور قربانیاں دو اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنوان فضلوں کا کہ تمہاری کوششیں اگر کروڑ گنا بھی زیادہ ہوتیں تب بھی وہ اس فضل کا تمہیں مستحق نہ بناتیں۔چھوٹی سی قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تم سے بے حد اور بے شمار فضلوں کا وعدہ کیا ہے اور اسی وعدہ کے پیش نظر ہم کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ آگے بڑھو اور قربانیاں دو۔مالی قربانی کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے اخلاص کا نمونہ پیش کیا ہے۔جانی قربانی کے متعلق جہاں تک اساتذہ کا سوال تھا ہماری ضرورت سے زیادہ آگئے ہیں لیکن جہاں تک ڈاکٹروں کا سوال ہے (ابھی تک یہ کہ رہا ہوں یوں مجھے اُمید ہے کہ بعد میں آجائیں گے لیکن توجہ دلانا اور یاد دہانی کرانا میرا فرض ہے ) پس ابھی تک جتنے ڈاکٹروں کی ہمیں ضرورت ہے وہ پورے نہیں ہوئے۔ایک تو میرا خطبہ بھی ابھی نہیں چھپا بہت سارے لوگوں کو اس کی اہمیت کا بھی پتہ نہیں ہوگا۔بہر حال میرے اس پہلے خطبہ کے چھپنے اور اس خطبہ کے چھپنے کے درمیان غالباً ۳ ، ۴ ہفتوں کا فرق پڑ جائے گا ایک اور یاد دہانی ہو جائے گی۔اس وقت جتنے بھی آدمیوں کی احمدیت اور اسلام کو ضرورت ہے وہ ہمیں دینے چاہئیں یعنی جو ہماری طاقت میں ہو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ہم جب یہ قربانی دے دیں گے پھر بھی عیسائیت کے لئے زندگی وقف کرنے والوں کے مقابلہ میں ہماری تعدا د غالباً ہزارواں حصہ ہوگی کیونکہ وہ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں دنیا میں کام کر رہے ہیں۔پھر اُن کی عورتیں ہیں وہ بھی لاکھوں کی تعداد میں منتیں بن کر جو ایک غیر فطری چیز ہے سر منڈا لیتی ہیں اور ساری عمر کنواری رہنے کا عہد کرتی ہیں اور ان کے مقابلہ میں تم اپنی بہنوں سے یہ قربانی لے ہی نہیں سکتے کیونکہ اسلام نے اسے جائز قرار نہیں دیا۔جو قربانی ہم لے سکتے ہیں اور لینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے:۔اول:۔ہماری ہوشیار، دیندار ، ذہین اور صاحب فراست بچیاں اپنی خوشی سے واقفین کے ساتھ شادیاں کریں اور دنیا کی طرف نہ دیکھیں۔دین کی نعمتوں کو ترجیح دیں۔دوم :۔اپنے خاوندوں کے ساتھ جب باہر جائیں تو ان کی ممد و معاون بنیں اگر غیر ممالک