خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 234 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 234

خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء دیا گیا تھا اور اپنے فضل سے بہت سارے سامان پیدا کئے۔پھر حقیر کوششوں کے جو نتیجے نکلتے ہیں رحیمیت کے جلووں کی وجہ سے اس کا تو ایک سمجھدار احمدی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔اتنی سی ہماری کوشش ہوتی ہے ایسی کوشش کہ جو اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ اس کا ذکر کیا جائے۔ایسی قربانی (اگر اسے قربانی کہا جا سکتا ہو ) کہ جس کا نام لیتے ہوئے ہمیں شرم آنی چاہیے مگر اس کا نتیجہ ایسا نکلتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ متصرف بالا رادہ اور تمام قوتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔افریقہ میں جہاں کا میں اب دورہ کر کے آیا ہوں جو روپیہ عیسائیت خرچ کر رہی ہے اس کے مقابلہ میں ہم شاید ہزارواں بلکہ لاکھواں حصہ بھی خرچ نہیں کر رہے لیکن ان کے لاکھوں گنا زیادہ خرچ کا نتیجہ اور ہمارے لاکھویں حصہ خرچ کا نتیجہ اگر ہمارے سامنے ہوا اور ہم مقابلہ کریں تو ان کے اپنے کہنے کے مطابق یہ ہے کہ اگر وہ ایک آدمی کو عیسائی بناتے ہیں تو احمدیت دس کو حلقہ بگوش اسلام بنا لیتی ہے یعنی کوشش لاکھواں حصہ اور نتیجہ دس گنا زیادہ یہ ہماری کوشش کا نتیجہ نہیں ہوسکتا نہ ہماری قربانی اور ایثار اس بات کا استحقاق رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ نتیجہ پیدا کرے یہ محض اس کا فضل اور رحمت ہے جس کے نتیجہ میں یہ تبدیلیاں اور یہ انقلاب دنیا میں پیدا ہورہے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام احمد کے روپ میں ، احمد کے مظہر ہوکر ، احمد کے ظل بن کر اس دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جمالی طور پر ( تلوار کے ذریعہ نہیں بلکہ ) اخلاق کے ساتھ ، دلائل کے ساتھ، تائیدات سماویہ کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ دنیا پر غالب ہونے کی ذمہ واری آپ کی جماعت پر ڈالی گئی ہے یہ بہت بڑا کام ہے سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے بس کا تو یہ روگ ہی نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہ ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت خلوص نیت کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق قربانی دے گی تو انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا۔اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کوئی عقل مند کھڑے ہو کر یہ نہ کہتا کہ مال کی قربانی دو یا جان کی قربانی دو بلکہ اللہ تعالیٰ جو اپنے قول کا صادق اور اپنے وعدوں کا سچا ہے اس نے یہ کہا ہے کہ جو تمہاری طاقت میں ہے وہ میرے حضور پیش کر دو پھر جو میری طاقت کے جلوے ہیں انہیں اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کرو اور میرے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھو۔چونکہ