خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 233

خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۳ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء اپنے کمال کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے قوانین قدرت کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی تا کہ آپ کے ذریعہ عیسائیت کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے اور آپ احمد کی شان میں ( یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دوسرا نام احمد ہے۔پہلا نام محمد اور دوسرا نام احمد ) یعنی جمالی رنگ میں عشق و محبت کی آگ میں سلگنے والا دل لے کر مبعوث ہوئے تھے اور یہی عشق و محبت احمدیوں کے دلوں میں بھی پیدا کرنا چاہتے تھے۔آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ یہ صحیح ہے کہ ایک وقت عیسائی کہا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں کہاں معجزات کا ذکر ہے؟ اسلام نے کون سا معجزہ دکھایا ہے ؟ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ میں خدا کے نام پر اور اس کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے مخالفوں کے مقابلہ میں آسمانی نشانوں کو ظاہر کروں لیکن یہ میرا مقابلہ نہیں کر سکیں گے بلکہ یہ تو میرے ماننے والوں کے دلائل کے سامنے بھی نہیں ٹھہر سکیں گے۔آپ نے اُس زمانے میں یہ اعلان فرما یا جس وقت عیسائی دنیا یہ بجھتی تھی کہ یہ مضحکہ خیز باتیں ہیں۔ہم تیار ہیں اسلام کو مارنے کے لئے اور اسلام بالکل تیار ہے مرنے کے لئے۔کیونکہ زندگی اور جان اس کے اندر نہیں ہے نہ علمی میدان میں نہ تائیدات سماویہ کے لحاظ سے۔واقعی اسلام میں اس وقت کوئی جان باقی نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی احمدیت کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود میں ظاہر ہوئے اور آپ کی بعثت کی یہ غرض ٹھہری کہ جس طرح پہلوں نے اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات کے جلوے دیکھے تھے۔اسی طرح آپ بھی دنیا کو ان صفات کے جلووں کا مشاہدہ کروائیں۔علمی لحاظ سے اس قدر دلائل آپ کو دیئے گئے ہیں کہ ان کا شمار ہی کوئی نہیں پھر محض اپنے فضل سے بے سروسامانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں اور آپ کے طفیل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے روشنی حاصل کرنے والوں کی تربیت کا ایسا انتظام کیا کہ ہزاروں لاکھوں فدائی پیدا کر دیئے۔دین کے جانثار پیدا کر دیئے اسلام کی روحانی فوج کے سپاہی پیدا کر دیئے۔یہی حض اللہ تعالیٰ کی روحانی تربیت کا نتیجہ تھا جس کا وعدہ ” رَبُّ العلمينَ “ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو