خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 224
خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۴ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کندھوں پر ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آئے یہ بوجھ بھی ہم خود ہی برداشت کر لیں اور وہاں ایک یو نیورسٹی کھول دیں اللہ تعالیٰ سے کوئی بعید نہیں آپ الحمد للہ بہت بڑھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک حسین اور عظیم رنگ میں ایک چھوٹے سے منصوبہ کے لئے قربانی کرنے کی توفیق عطا کی ہے اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول فرمائے اور پھر یہ بھی دعا کریں کہ جو خو بصورت اور حسین شکل مجموعی طور پر پاکستان میں بنی ہے ہر شہر اور ہر قصبے کی وہی خوبصورتی قائم رہے۔ہمیں کسی جگہ بھی کوئی کمزوری نظر نہ آئے۔بعض دفعہ راولپنڈی اور اسلام آباد مالی قربانی میں کمزوری دکھا جاتے ہیں میں نے بڑا غور کیا ہے اور بڑی دعا ئیں بھی کی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ مجھے اس کی وجہ سمجھ نہیں آئی بڑی مخلص جماعت ہے ہر طرح قربانیاں دیتی ہے کہیں کوئی خرابی ہے کہاں ہے؟ وہ میں Pin Point ( پن پوائنٹ ) نہیں کر سکا یعنی اس کے اوپر انگلی نہیں رکھ سکا خدا کرے وہ کمزوری جہاں بھی ہے وہ دور ہو جائے ایک چیز تو یہ ہے ممکن ہے اسی کا اثر ہو کہ یہاں کے عہد یدار جماعت کو اپنے اعتماد میں نہیں لیتے یہ بڑی سخت غلطی ہے یہ ایک آدمی یا آدمیوں کا کام نہیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم انسان تو نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ پیدا ہو سکتا ہے انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے دل میں بشاشت پیدا کرنے کے لئے یہ حکم دیا شَاوِرُهُم في الأمر (ال عمران :۱۶۰ ) کہ مشورہ میں ان کو شریک کر و حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی فراست اپنے مقام اور اس زندہ تعلق کی وجہ سے جو آپ کو ہر وقت اپنے رب کے ساتھ تھا کسی اور کے مشورہ کی آپ کو ضرورت نہیں تھی وہ عَلَامُ الْغُيُوبِ اور ہادی برحق ہر وقت آپ کو مشورہ اور ہدایت دیتا تھا۔سارا قرآن کریم یہی ہے یہ ہمارا ہدایت نامہ ہے لیکن حکم یہی دیا شاوِرُهُمْ فِي الأمر اور ایک اور بات میں آپ کو بتادوں مجھے اس کا بڑی شدت سے احساس ہے میں نے وہاں جب کمیٹی بنائی ”نصرت جہاں ریز روفنڈ“ کے اکاؤنٹ کو اوپر بیٹ کرنے کے لئے تو ان سے میں نے کہا کہ اس کمیٹی میں ایک نو جوان ضرور رکھوں گا۔اگلی نسل کو یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ہماری بھی ذمہ داری ہے اور ہماری بھی Contributions ( کنٹری بیوشنر ) ہیں صرف بڑوں کا یہ کام نہیں ہے نو جوان نسل ساتھ شامل ہونی چاہیے۔چنانچہ اس