خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 215

خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۵ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء دن کی مہلت بھی نہیں دوں گا اور جب میں یہاں سے جاؤں گا تو انشاء اللہ دس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم اس مد میں جمع ہو چکی ہوگی آپ فکر نہ کریں میں نے ان سے یہی کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ نکلوایا ہے تو وہ آپ ہی اس کا انتظام بھی کرے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک چھوٹا سا فقرہ نظم میں کہا ہوا ہے کہ ے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔اللہ تعالیٰ کا کام ہے اسی نے توجہ اس طرف پھیری ہے اس کا منشاء مجھے معلوم ہوا ہے اس لئے اس کا انتظام تو ہو جائے گا جب میں نے انگلستان کی جماعت کو یہ تحریک کی جس کا رد عمل بڑا اچھا ہوا تو میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ میں تم سے جو مطالبہ کر رہا ہوں وہ پورا ہوگا یا نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ پورا ہو جائے گا میں نے آدمی بھی بھیجنے ہیں ڈاکٹر بھی اور سکول ٹیچرز۔مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ آدمی کہاں سے آئیں گے کیونکہ خدا کہتا ہے کہ وہاں آدمی بھیج ، میں نے تو انسان کو پیدا نہیں کیا، اس نے انسان پیدا کئے ہیں، وہ آپ ہی اس کا بھی انتظام کر یگا لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے اور تمہیں بھی فکر کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ محض قربانی دے دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول نہ کر لے سعی مشکور ہونی چاہیے خالی قربانی پیش کر دینا تو کسی کام کا نہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بڑی تفصیل سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ سینکڑوں آدمیوں کی قربانی (جو وہ دے چکتے ہیں ) پر جب ثواب دینے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قربانی کو اٹھا کر ان کے منہ پر مارتا ہے کہ تمہارے اندر فلاں کمزوری تھی ، ریاء تھا تکبر تھا، توحید پر پورے طور پر قائم نہیں تھے۔میں نے تمہارے مال کو کیا کرنا ہے۔کوئی چیز تمہاری قبول نہیں۔پس میں نے وہاں اپنے دوستوں سے کہا کہ تم اس کی فکر کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو قبول کرے۔میں دعا کروں گا اپنے لئے بھی اور تمہارے لئے بھی تم بھی دعائیں کرو پھر مجھے اور فکر پڑ گئی گوا ایک لحاظ سے تسلی بھی تھی بہر حال امام جماعت کو فکر تو رہتی ہے کہ جماعت کے کسی حصے میں بھی کمزوری نہ واقع ہو جائے۔اب میں پاکستان میں آیا ہوں اور یہاں میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں ایسا نہ ہو کہ پاکستان کے کسی حصے میں کوئی کمزوری نظر آئے چنانچہ آپ کے پاس اخبار الفضل