خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 213
خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۳ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء ایک قسم کے مست ہو جاتے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔خیر وہاں جو ہوا وہ تو ہوا مشرقی افریقہ کے ایک ملک زمبیا کے ایک وزیر انگلستان میں کسی کامن ویلتھ کا نفرنس کو Attend (اٹنڈ ) کرنے آئے ہوئے تھے۔جس روز ہم وہاں سے پاکستان کے لئے روانہ ہور ہے تھے اسی روز انہوں نے بھی روانہ ہونا تھا اور اتفاق کی بات ہے کہ اسی کمرہ میں وہ بھی اپنے جہاز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ہم نے بھی اپنے جہاز کے انتظار میں بیٹھنا تھا۔ان کے ساتھ زمبیا کے ہائی کمشنر اور ان کا آٹھ دس سال کا ایک بچہ بھی تھا۔چنانچہ انہوں نے کہا ہم ملنا چاہتے ہیں۔میں ان سے ملا اور پانچ سات منٹ تک ان کے ساتھ باتیں کیں۔پھر وہ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے میں اپنے دوستوں کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا ایک احمدی دوست کو خیال آیا وہ ایک پاؤنڈ کا نوٹ لے کر میرے پاس آگیا کہ اس پر دستخط کر دیں میں اسے اپنے پاس یادگار کے طور پر رکھوں گا۔پھر اسے دیکھ کر ایک دوسرا آ گیا اسی طرح آٹھویں ، دسویں نوٹ پر دستخط کر کے جب میں نے سر اٹھایا تو وہ آٹھ دس سال کا حبشی بچہ ہاتھ میں نوٹ لے کر دستخط کروانے کے لئے کھڑا تھا۔اس کو خیال آیا یا وزیر کو خیال آیا بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کا ان کو ایک نشان دکھانا تھا اور ایسے سامان پیدا کر دیئے مجھے خیال آیا کہ یہ غیر ملکی یہاں میرا مہمان ہی ہے ہماری تو ساری دنیا مہمان ہے نا اس لئے میں اس کے نوٹ کی بجائے اپنے نوٹ پر دستخط کر دیتا ہوں چنانچہ میں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا اور اس پر دستخط کر کے اسے پکڑا دیا یہ تو بالکل معمولی بات تھی پھر کھڑا ہوا اور میں نے اس بچے کو گلے لیا اور اس کو پیار کیا ان کے جہاز نے پہلے جانا تھا اور جب اعلان ہوا کہ اس ہوائی جہاز کے مسافر آ کر ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں تو وہ کھڑے ہوئے اور میرے پاس آگئے۔میں بھی کھڑے ہو کر ان سے ملا۔اس وزیر کا یہ حال تھا کہ میرا شکر یہ ادا کرتے ہوئے اس کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے۔وہ اتنا جذباتی ہوا ہوا تھا۔اس نے کہا ہم آپ کے زیر ا حسان اور بہت زیادہ ممنون ہیں پتہ نہیں اور کیا کچھ کہ رہا تھا اور میری آنکھیں مارے شرم کے جھک رہی تھیں۔میں دل میں کہتا تھا میں نے تمہیں کیا دیا ہے اسلام کا ایک چھوٹا سا تحفہ ہی ہے نا! جو میں نے تمہیں دیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی ایسا شخص بھی دنیا میں ہے جو ہمارے بچوں کو اس طرح پیار کر سکتا ہے مگراللہ تعالیٰ نے ایک شخص