خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 158

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۸ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء ہوئے چار تحریک جدید میں چلے گئے اور چار چلے گئے صدر انجمن احمد یہ میں جو صدر انجمن احمد یہ کے حصہ میں آئے ان کو یہیں خدمت کا موقع ملتا ہے اور جوتحریک میں گئے تحریک ان کو یہاں تو نہیں رکھ سکتی وہ انہیں باہر بھیج دیتی ہے۔ابھی تک ہم نے اس کو پوری طرح Polish ( پالش ) نہیں کیا اس کی پوری تربیت نہیں کی اس کے پورے حالات نہیں معلوم کہ وہ کیسا کام کر سکتا ہے؟ اس کو ہم ایک ابتلا میں ڈال دیتے ہیں اس حد تک ہماری ذمہ داری ہے جس حد تک کہ اس نے اپنے مقام کو نہیں پہنچانا یہ اس کی ذمہ داری ہے۔انسان کا مقام تو دراصل عاجزی کا مقام ہے سر کا مقام زمین ہے بلندی نہیں جسم کے اوپر لگا ہوا ہے لیکن ہے اس کا مقام پاؤں پر۔لائبیریا کے پریذیڈنٹ ٹب مین نے ہماری دعوت کی۔ان کے محل میں جو کھانے کا کمرہ ہے اس کی چھت شیشوں کی ہے جس میں آدمی نظر آتا ہے لیکن چھت پر اگر شیشہ ہو تو دیکھنے سے سر نیچے نظر آئے گا اور پاؤں او پر نظر آئیں گے وہاں جا کر بیٹھتے ہی میں نے انہیں کہا کہ میں آپ کے اس کمرے میں آکر بہت خوش ہوا ہوں کیونکہ یہاں جو انسان آتا ہے اس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کے سر کا اصل مقام کون سا ہے وہ اس سے بہت محظوظ ہوئے اگر چہ اس کی عمر تر اسی سال ہے مگر وہ بڑا بیدار مغز انسان ہے اور وہ اپنی قوم کے لئے باپ کی طرح ہے۔میں نے اس میں یہ بڑی خوبی دیکھی ہے کسی سے بھی آپ بات کریں وہ اسے باپ سمجھے گا اور باپ ہی کہے گا۔اس نے اپنے ملک کی ۱۹۴۴ ء سے اس وقت تک بڑی خدمت کی ہے۔ان کا دستور ہے کہ کھانے کے بعد کھڑے ہو کر چھوٹی سی تقریر کرتے ہیں میں نے بھی کی۔وہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہوں تو میں عیسائی لیکن میں خدائے واحد و یگانہ پر ایمان رکھتا ہوں اور سارے مذاہب میرے لئے برابر ہیں۔میں بحیثیت پریذیڈنٹ مذہب مذہب میں تفریق نہیں کرسکتا اور پھر اس نے کہا کہ میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ اس وقت روحانیت کا ایک بادشاہ ہمارے درمیان موجود ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہلوایا میں تو ایک عاجز اور ناکارہ انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ جب فضل کرنا چاہتا ہے تو ایک ناکارہ ذرہ کو بھی ایک مقام دے دیتا ہے عزت کا اور وہ (شب مین ) بہت خوش تھے اور لوگوں کو کہا کہ یہ بابرکت وجود