خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 119
خطبات ناصر جلد سوم ١١٩ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء بھی تھک جاتے تھے لیکن یہ ان کا حق تھا اور میں ان کا یہ حق دیتا تھا چنانچہ گوون بڑا خوش ہوا وہ خود بڑا پکا عیسائی ہے ( میں اس خطبہ میں صرف اصولی باتیں بیان کر رہا ہوں تفصیل میں نہیں جارہا سوائے اس کے کہ کسی تفصیل کو اصول کے بیان کرنے کے لئے بتاؤں) بہر حال وہ عیسائی ہونے کے باوجود جماعت کا گرویدہ بھی ہے یعنی مذہب کا نور تو اس پر نہیں چمکا لیکن پیار کا جو پیغام تھا اس سے وہ متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا میں جب اس سے ملنے کے لئے گیا تو یہ ۳۵ سالہ نوجوان اس عمر میں ویسے ہی انسان کا سر پر غرور ہوتا ہے ) جس نے سول وار ( خانہ جنگی ) ابھی ابھی جیتی تھی اور اس ملاقات سے کچھ عرصہ پہلے بیا فرانے Surrender (سرنڈر ) کیا تھا۔وہ Civil War (خانہ جنگی) جیتی تھی جس میں غیر ممالک اور غیر ملکی مشنریز نے اس کے خلاف کام کیا تھا اور اس نے ان تمام کے منصوبے خاک میں ملا دیئے تھے اس حالت میں میں اس سے ملا۔وہاں کی کیفیت یہ تھی کہ میری ملاقات سے کم و بیش تین ہفتے پہلے سارے ویسٹ افریقہ کا آرچ بشپ اسے ملنے آیا اس نے اسے ٹھیک طرح منہ نہیں لگایا اور اسے دعا تک کے لئے نہیں کہا حالانکہ وہ بھی عیسائی اور ان کا سردار۔بلکہ اس آرچ بشپ نے اپنی خفت مٹانے کے لئے خود ہی چلتے ہوئے کہا اچھا اب میں آپ کے لئے دعا کر دیتا ہوں لیکن جس وقت میں اس سے ملنے کے لئے گیا تو جماعت کی اتنی قدر Appreciation (ا پری سی ایشن ) اس کے دل میں تھی کہ بیٹھتے ہی اس نے کہا ہمارے لئے دعا کریں۔میں سمجھا نہیں بات میں نے کہا یہ عیسائی ہے اس نے دیکھا کہ ایک مذہبی لیڈر آیا ہے اس لئے اس نے رسماً کہہ دیا کہ ہمارے لئے دعا کریں میں نے جواباً کہا میں تو دعا کرتا ہوں اور میں آپ کے لئے بھی دعا کروں گا لیکن جب میں نے نظر اٹھا کر اس کے چہرے کے آثار دیکھے تو میں نے سمجھا کہ میں اس کی بات نہیں سمجھ سکا میں نے پھر اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ میں اسی وقت فارمل طریقے پر ہاتھ اٹھا کر دعا کروں کہنے لگا ہاں میرا یہی مطلب ہے چنانچہ میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور وہ بھی اپنے رنگ میں اس میں شامل ہوا۔غالباً تصویر بھی چھپ گئی ہے ( دعا کریں کہ جو ہاتھ یوں بندھے ہوئے نظر آتے ہیں کسی دن یوں کھل جائیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے ) وہ دل کا بڑا اچھا ہے پھر اس نے مسلمان مذہبی امام سے