خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 973
خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۳ خطبہ جمعہ کے رنومبر ۱۹۶۹ء کو ادا کرنا تلاوت قرآن کریم اور قیام الیل کے ساتھ۔میں تلاوت قرآن کریم اس لئے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ اگر کسی جگہ کوئی ایسی بات آتی یا کوئی ایسا مضمون بیان ہوتا جس سے خدا تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی بڑائی اور اس کی رفعت ثابت ہوتی تو آپ اللہ تعالیٰ کی حمد میں لگ جاتے اور جس وقت وہ جگہ سامنے آتی جہاں خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کا بیان ہوتا تو آپ استغفار میں لگ جاتے دراصل قرآن کریم کی تلاوت کا یہی طریق ہونا چاہیے۔پس رمضان میں ان ساری چیزوں کو اکٹھا کیا گیا ہے اور عبادات کا یہ مجموعہ عظیم مجاہدہ اور عظیم کوشش ہے اور یہ ایک ایسی کوشش ہے جس نے اس کے دن اور رات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایسی کوشش ہے جس میں نفس کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھا گیا ہے اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔تزکیہ نفس اور طہارت قلب کی طرف بہت توجہ کی گئی ہے اور ہر شخص کو سکھ پہنچانے اور ہر شخص کو دکھوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ مختلف کوششیں جن کا تعلق دن سے بھی ہے اور رات سے بھی ہے۔جن کا تعلق ایثار اور قربانی سے بھی ہے یعنی شہوت سے بچنا اور کھانے پینے کو چھوڑنا اور جن کا تعلق مستعدی اور عزم و ہمت کے ساتھ غیروں سے حسن سلوک سے پیش آنے سے بھی ہے پھر ان کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے۔یعنی قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء اور اس کی تسبیح کو کثرت سے بیان کرنا۔اسی طرح ان کا مجموعی طور پر حقوق العباد سے بھی تعلق ہے۔پس قریباً تمام عبادات کے متعلق اصولی طور پر ہمیں اشارہ کر دیا گیا ہے پس رمضان میں انسان خدا کی راہ میں گویا اپنی جد و جہد کو اس کے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور جس وقت انسان اپنی کوشش کو اس کے کمال تک پہنچا تا ہے اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کا فضل جو دراصل اس کی رحیمیت کا فضل ہے جوش میں آئے تو اللہ تعالیٰ اس کو جزا دیتا ہے اور جس وقت اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحیمیت کے ماتحت کسی سے سلوک کرنا چاہتا ہے تو صرف اس کی کوشش ہی کی اسے جزا نہیں دیتا بلکہ ایک تو اس کا فضل ہمیں اس طرح نظر آتا ہے کہ انسان بہر حال کمزور ہے وہ کوشش تو کرتا ہے لیکن اس کی کوشش میں بہت سے نقائص رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحیمیت کے نتیجہ میں ان نقائص کو دور کرتا اور انسان کے اعمال کو ضائع ہونے