خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 955 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 955

خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۵ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء تھے بلکہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے رب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانا تھا۔اُنہوں نے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی گردنیں اس طرح آگے رکھ دیں جس طرح ایک بھیڑ مجبوری کی حالت میں قصائی کی چُھری کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو دیکھ کر اور اس اخلاص پر نگاہ کر کے ان کی گردنوں کی حفاظت کے بھی سامان پیدا کر دیئے اور اسلام کے غلبہ کے بھی سامان پیدا کر دیئے لیکن آج تلوار کا زمانہ نہیں آج زمانہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اسلام کی روحانی تلوار کا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلّت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ گند ہوگا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کردے۔“ اسی طرح ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں:۔۵۸ دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔( یعنی اسلام ہی ساری دنیا کا مذہب اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ساری دنیا کے پیشوا ہوں گے ) میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بو یا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ لیکن اس درخت کی آبپاشی کے لئے اور اس کی حفاظت کے لئے اور اُس میں ملائی کرنے کے لئے قربانی آپ نے دینی ہے آسمان سے فرشتوں نے آکر یہ کام نہیں کرنا۔اسلام کے غلبہ اور اسلام کی فتح کا بیچ تو بود یا گیا لیکن اگر وہ پیج اپنی نشو و نما کے لئے ہماری جانیں مانگے تو ہمیں جانیں قربان کر دینی چاہئیں۔اگر وہ درخت یہ کہے کہ اے احمد یو! میں نے تمہارے خون سے سیراب ہونے کے بعد بڑھنا اور پھولنا ہے اور پھل دینے ہیں تو احمدیوں کو اپنے خون پیش کر دینے