خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 954 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 954

خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۴ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء ہورہے ہیں۔آپ لوگ یہاں رہتے ہوئے اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔انگلستان کے یہ سفید پرندے الہی نور کے سامانوں سے بے حد غافل ہیں۔ان کی ظاہری سفیدی پر اتنے بدنما دھبے پڑے ہوئے ہیں کہ انسانی عقل دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ انسانی دل اور روح کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر منور بنایا تھا لیکن اُنہوں نے اپنے ہاتھ سے ان ظلمتوں کو پیدا کر لیا جنہوں نے ان کے نور کو ان کے ماحول سے باہر نکال دیا اور وہ روحانی لحاظ سے اندھیروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔پس روس میں ریت کے ذروں کی طرح احمدی مسلمانوں کو پیدا کرنے کی کوشش کرنا آپ کی ذمہ داری ہے یورپ و امریکہ اور ایشیا اور جزائر کے رہنے والوں کو انتباہ کرنا اور کوشش کرنا کہ وہ ان اعمال کو چھوڑ دیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے اور وہ اعمالِ صالحہ بجالائیں جو اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا اور اس کے فضل کو جذب کرنے والے ہوں۔یہ بھی آپ کا کام ہے۔عرب ممالک میں اصلاح احوال کے سامان پیدا کرنا یہ بھی آپ کا کام ہے۔مکہ کے مکینوں کو قادر و توانا کی فوج میں فوج در فوج داخل کرنا یہ بھی آپ کا کام ہے۔یہ بڑے ہی اہم کام ہیں اور بڑے ہی مشکل کام ہیں جو ہمارے سپرد کئے گئے ہیں اگر وہ زندہ خدا ہمارے ساتھ نہ ہوتا اور آج بھی ہمیں اس کی بشارتیں نہ مل رہی ہوتیں تو ہم تو زندہ ہی مرجاتے۔ان بشارتوں اور اس انذار اور ان ذمہ داریوں سے جماعت کا ایک طبقہ غفلت برت رہا ہے ان کو بھی ہم نے ہوشیار اور بیدار کرنا ہے۔اس وقت جو کام بھی ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے کرنا ہے وہ جماعت احمدیہ نے کرنا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی قوم یا کسی جماعت کو بشارتیں دیتا ہے تو یہ تو نہیں کرتا کہ آسمان سے فرشتے بھیج دے اور وہ اس اسباب کی دنیا میں کامیابی کے سامان پیدا کر دیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ساری دنیا کو اپنا پیغام پہنچانے کے لئے اپنی آواز کو بلند کیا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آئے گا تو اس کے مقابلے میں جب شیطان نے اپنی میان سے تلوار کو نکالا تا کہ مسلمانوں کو ہلاک اور اسلام کو مٹا دے تو اس تلوار کا مقابلہ کرنے کے لئے فرشتے نہیں آئے