خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 933
خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۳ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء ذریعہ ہمیں ملا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کی عزت کو اس وجہ سے کہ وہ انتہائی طور پر قربانیاں دے کر اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دنیا کے دلوں میں پیدا کر رہی ہے ساری دنیا میں قائم کر دوں گا کس طرح پورا ہوگا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں یہ وعدہ بیان ہوا ہے اور اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے یہ بات کھلی ہوئی کتاب کی طرح واضح ہے لیکن آپ کے حق میں یہ وعدہ صرف اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ آپ دنیا میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بھائی کی عزت قائم کرنے والے ہوں کیونکہ ہر دوسرا انسان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی بھائی ہے یا انسانی بہن ہے اگر آپ اس عزت کو قائم کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں آپ معزز ہیں اور وہ وعدے آپ کے حق میں پورے ہو سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے دیئے گئے ہیں لیکن اگر آپ کے دل میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے بھائی یا بہن کی وہ عزت نہیں جو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے تو پھر آپ کے حق میں وہ وعدے ہرگز پورے نہیں ہو سکتے۔خدائی وعدے تو ضرور پورے ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ کوئی اور قوم پیدا کرے گا یا کسی اور نسل کے ذریعہ سے وہ وعدے پورے ہوں گے کیونکہ یہ خدائی وعدے ہیں جو پورے ہو کر رہیں گے لیکن آپ لوگ تو اس سے محروم رہ جائیں گے اور اس سے زیادہ کوئی بدقسمتی نہیں ہو سکتی۔پس دوسری نعمت جو ہے وہ شرف انسانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ بحیثیت انسان تمام لوگ برابر ہیں یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی دوسرے انسان میں بھی بلحاظ شرف انسانی کوئی فرق نہیں ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا وہ تقرب حاصل کیا، اللہ تعالیٰ کا وہ پیار حاصل کیا کہ جو کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں نہ صرف یہ بلکہ آپ کے طفیل سارے بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے پیار میں سے ایک حصہ پانا ممکن ہو گیا۔اگر چہ سب لوگوں نے اس سے حصہ پایا تو نہیں لیکن جہاں تک امکان کا تعلق ہے سارے بنی نوع انسان کے لئے قیامت تک کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ آپ کے پیار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کا پیار حاصل کریں لیکن اگر ہم اپنے تصور میں وہ مقام لائیں جہاں سے