خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 934
خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۴ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء اخلاقی اور روحانی میدانوں میں دوڑ شروع ہوئی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شرف انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کو مساوی اور یکساں حیثیت دی جائے۔پس سید نا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک شدید جذ بہ ہر احمدی کے دل میں پیدا ہونا چاہیے اور وہ شرف جو خدا تعالیٰ نے انسان کو بحیثیت انسان کے دیا ہے ہماری نگاہ میں ہر دوسرا انسان اس کا مستحق ہو۔ہمارے عمل میں اس کو یہ محسوس ہو اور ہمارے تعلقات میں اُسے یہ جلوہ نظر آئے تب جا کر وہ حسن و احسانِ اسلام کا گرویدہ ہوگا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگی۔پس یہ دوسری بنیادی نعمت عظمی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے اور ايَّاكَ نَعْبُدُ کے تقاضے میں یہ تھا کہ میں نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا صحیح اور پورا استعمال کرو جس کو ہم دوسرے الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ تدبیر کو انتہا تک پہنچاؤ۔ایسا کرنے کے بعد پھر میرے پاس آؤ تب میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔تیسری نعمت عظمیٰ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ہم احمدیوں کو حاصل ہے وہ خلافت راشدہ کا قیام ہے چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اس کے متعلق میں مختصراً کچھ کہوں گا چند بنیادی باتیں بتا دیتا ہوں ان کی بھی آپ کو قدر کرنی چاہیے ایک ہے خلافت اور ایک ہے خلیفہ ان دونوں میں فرق ہے۔خلافت نظام ہے اور خلیفہ جتنی بھی اللہ تعالیٰ اس کو زندگی دے وہ اللہ تعالیٰ کی منشا سے منتخب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو مسندِ خلافت پر بٹھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصطلاح میں خلافت قدرت ثانیہ کی مظہر ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرت کا وہ جلوہ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مجسم قدرت قرار دیا ہے ہمیں آپ کے وجود میں اور آپ کے مشن میں نظر آتا ہے یعنی قدرت کا یہ جلوہ قدرت ثانیہ میں بھی نظر آتا ہے۔خلافت کے اندر اس عظیم قدرت کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب طریق اختیار کیا ہوا ہے (البتہ یہ عجیب ہماری نگاہ میں ہے اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی مشیت تو ہمارے تصور سے بالا ہے ) اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو جو بالکل کم مایہ اور نا چیز اور جو کچھ بھی نہیں ہوتا اور اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں