خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 930 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 930

خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۰ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں خدائے رحمان جس نے اس کامل کتاب کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے یہ اعلان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کو شرف انسانی کے قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے تمہارا شرف اور تمہارا مرتبہ، تمہاری عزت اور تمہارا احترام قائم ہو۔غرض انسان کی عزت اور اس کے شرف کو قائم کرنے کے لئے قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔اس بنیادی نکتہ کو بھول جانے کی وجہ سے دنیا میں بدامنی اور بے چینی ، فساد اور ظلم کا دور دورہ ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جسے مسلمانوں نے فراموش کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن بدن تنزل کی گہرائیوں میں اُترتے چلے گئے جہاں تک انسان ہونے کا تعلق ہے امیر غریب میں کوئی فرق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کا مرتبہ اور شرف اور عزت ایک جیسی بنائی ہے بنیادی طور پر انسان شرف کے لحاظ سے تمام لوگ باہم برابر و یکساں ہیں۔قرآن کریم نے انسانی شرف اور عزت میں باہم مساوات کا اعلان کرتے ہوئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہاں تک کہلوایا ” إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم “ فرمایا۔اے اشرف المخلوقات! جہاں تک اشرف المخلوقات ہونے کا سوال ہے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے میں بھی تمہارے جیسا ایک انسان ہوں اور تم بھی میرے جیسے ایک انسان ہو یہ واقعی شرف انسانی کے قیام کے لئے بڑا عظیم الشان اعلان ہے اور مسلمانوں کی بڑی ہی بدقسمتی ہے کہ وہ اس کو فراموش کرتے چلے آنے کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے چلے آرہے ہیں۔ووروو ،، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جب یہ کہا کہ میرے حضور جھکو اور یہ کہو کہ رانياكَ نَعْبُدُ یعنی یہ کہ جو نعمتیں تو نے ہمیں عطا کی ہیں ہم ان کی قدر کرتے اور ان کو صحیح استعمال کرتے اور تیری رضا کے حصول کی کوششوں میں انہیں لگاتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسری نعمت عظمی شرف انسانی کے قیام کی صورت میں رونما ہوئی ہے یعنی ہم نے تمام بنی نوع انسان کی بحیثیت انسان عزت اور شرف اور احترام کو قائم کرنا ہے اور ایک دوسرے سے معاملہ کرتے ہوئے انسان کی عزت نفس اور اس کے انسانی شرف کا خیال رکھنا ہے اور ہمیشہ یہ یا درکھنا ہے کہ جس سے میں مخاطب ہوں یا جس سے میں کوئی معاملہ کر رہا ہوں یا جو اپنی ضرورت کے پورا کروانے یا اپنے حق کے حصول کے لئے