خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 926 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 926

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۶ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء ہو سکتی یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے ایک زمیندار اپنے کھیت میں گندم کا بیج نہ ڈالے اور چھ مہینے تک یہ دعا کرتا رہے کہ اے خدا! مجھے اس کھیت سے بہت سا رزق عطا فرما۔اگر کسی کے کھیت سے چالیس من گندم نکلا کرتی ہے تو میرے کھیت سے سومن نکلے لیکن اس نے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں بویا ہوتا اگر وہ ان چھ ماہ کے دوران ہر رات خدا کے حضور دعائیں کرتا رہے تب بھی اس کی دعا قبول نہیں ہوگی اس لئے کہ اسے خدا تعالیٰ نے جو قوت عطا کی تھی اور اس مقصد کے حصول کے لئے جو سامان اور ذرائع پیدا کئے تھے ان کی اس نے قدر نہیں کی اور ان کے استعمال کرنے کو نظر انداز کر دیا لیکن دوسری طرف ایک وہ شخص ہے جو اپنے کھیت میں وقت پر گندم کا بیج بوتا ہے اور بڑی محنت سے اس کی دیکھ بھال بھی کرتا رہتا ہے اور پھر ساتھ ہی دعا بھی کرتا رہتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کی دعا قبول ہو کیونکہ خدا تعالیٰ تو مالک بھی ہے ، وہ تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ ہمارا خادم تو نہیں ہے کہ ہم جو بھی اس سے کہیں وہ اسے فورا مان لے اگر وہ کوئی دعا قبول کرتا ہے تو یہ اس کا احسان ہے یہ اس کا فضل ہے۔ہمارا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ ضرور ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس قسم کے نظارے بھی دکھاتا رہتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے پورا فائدہ بھی اُٹھاتا ہے اپنے ذرائع کو کما حقہ استعمال بھی کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنے میں بھی لگا رہتا ہے۔بایں ہمہ اس کی کوشش بے سود، اس کی تدبیر بیکار اور اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور یہ واقعات ہمارے لئے عبرت کے اسباق کے طور پر رونما ہوتے ہیں اور اس کے بعد بھی کسی کی روحانی اور جسمانی آنکھ نہ کھلے تو ایسے شخص سے بڑھ کر بد بخت کون ہوسکتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے مجھے ضلع کیمل پور کے ایک دوست نے لکھا کہ ہمارے گاؤں کی خریف کی فصل بڑی اچھی تھی اور لوگ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہماری محنت میں برکت ڈالے گا اس لئے اس سے ہمیں کافی رزق حاصل ہوگا اس نے لکھا کہ آٹھ دس دن ہوئے بارش ہوئی تھی ( ہمارے ربوہ میں بھی ہوئی تھی ، لاہور میں بھی ہوئی تھی ) اس بارش کے دوران صرف ایک منٹ کے لئے ژالہ باری ہوئی اور کھیتوں میں کھڑی ہر چیز کو زمین کے ساتھ ملا دیا اور ان کے لئے زرق کی کشادگی کے جو سامان نظر آ رہے تھے سارے کے سارے ختم ہو گئے۔ویسے