خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 925
خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۵ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء دو فرماتا ہے کہ جب تم عبادت کے تقاضے کو پورا کر لو گے تو پھر میں تمہارے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کی رُو سے تم نے جو مجھ سے مدد مانگی ہے اور نصرت طلب کی ہے وہ میں تمہیں عطا کروں گا میں تمہاری مدد کے لئے آجاؤں گا لیکن میری مدد کے حصول سے قبل تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں عبادت کے جن تقاضوں کا ذکر ہے تم ان تقاضوں کو پورا کرنے والے بنو کیونکہ جو شخص خدا داد قوتوں اور طاقتوں اور اس کی عطا کردہ دوسری نعمتوں سے لا پرواہی برتتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شوخی اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔پس ادب کا طریق اور عاجزی کی راہ یہی ہے کہ ہم اس کی عطا کردہ قوتوں یا صلاحیتوں یا دوسرے مادی اسباب اور روحانی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن اُن کو بت بھی نہ بنا ئیں یہ سمجھنا تو حماقت ہے کہ کوئی شخص اپنی قوت ، اپنی قابلیت یا اپنی عقل و فراست یا اپنے فکر و تدبر کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتا ہے۔نہیں ہرگز نہیں۔یہ ساری چیزیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو روحانی نعمتیں بخشی ہیں ان کے صحیح استعمال کے باوجود ہم روحانی رفعتیں حاصل نہیں کر سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو کیونکہ روحانی رفعتیں یا روحانی بلندیاں جن ستونوں کے سہاروں پر کھڑی ہیں وہ انسان کے بنائے ہوئے سنتون اور سہارے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے ستون اور سہارے ہیں۔ان سہاروں کے بغیر انسان رفعتوں اور بلندیوں پر کھڑا رہ ہی نہیں سکتا جو شخص اپنے آپ کو بڑا بلند سمجھنے لگتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا سہارا نہیں لیتا وہ بلندیوں سے گرتا ہے اور اس کے پرخچے اڑ جاتے ہیں اور اس کا درخت وجود ذرہ ذرہ ہو کر رہ جاتا ہے جس طرح افریقہ کا جنگلی بھینسا جب غصے میں کسی انسان کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہے تو بتانے والے بتاتے ہیں کہ انسانی جسم کے ذروں کو ڈھونڈنا بھی مشکل ہو جاتا ہے یہ تو خدا تعالیٰ کی ایک ادنی مخلوق ہے مگر جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جائے اس کے جسم کے کروڑویں حصہ کا بھی کہیں پتہ نہیں لگ سکتا۔پس ان برائیوں سے بچتے رہنا چاہیے لیکن یہ نہیں کہ ہم خدا داد قوتوں اور صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیں اور کوئی کوشش نہ کریں، کسی تدبیر کو عمل میں نہ لائیں مگر دعا یہ ہو اللہ تعالیٰ سے کہ یہ ہو جائے اور وہ ہو جائے ایسی دعا ہرگز قبول نہیں