خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 890
خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۰ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء اور گیارہویں معنی کے متعلق میں نے بیان کرنا ہے۔سو دین کے نویں معنے حساب کرنا ، محاسبہ کرنا ہیں۔دسویں معنے ہیں فیصلہ اور گیارہویں معنے ہیں جزا اور بدلہ۔میں نے اس سلسلہ کے پچھلے خطبہ میں دین کے آٹھویں معنے اور آٹھویں تقاضا کے متعلق کچھ بیان کیا تھا۔میر اوہ بیان تدبیر کے متعلق تھا کیونکہ میں نے جس ترتیب سے یہ معانی لکھے ہیں اس کے لحاظ سے دین کے آٹھویں معنے تدبیر کے ہیں اور اسی پر میں نے خطبہ دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ میں ایک عظیم اقتصادی نظام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں اس لئے اقتصادیات کو اپنی ڈگر پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ اس کے لئے تد بیر کرنی پڑے گی، منصو بہ بنانا پڑے گا۔سالانہ، چارسالہ، پانچ سالہ یا دس سالہ جیسا کہ ضرورت ہو پلان (Plan) بنانے پڑیں گے۔سکیمیں بنانی ہوں گی ، منصوبے تیار کرنے پڑیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے سارے منصوبوں کو خالصہ میرے لئے بنانا اور اپنے سارے منصوبوں کو اس طرح تیار کرنا کہ اس کے نتیجہ میں تم میری صفات کے مظہر بنو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین اور باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا تعلق تدبیر کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تم منصوبہ بناؤ گے اور تم اپنے اس منصوبہ کی تیاری میں میری صفات کا مظہر بنو گے تو تمہارے سامنے یہ بات آئے گی کہ اس کے لئے تمہارے پاس سارے اعداد وشمار ہونے چاہئیں ساری ضرورتیں تمہارے سامنے ہوں کسی ایک خطہ کی ضرورت نہیں بلکہ تمہیں رعایا کے تمام شہروں اور تمام خطوں کی ضرورتوں کو سامنے رکھنا پڑے گا کیونکہ مکمل اعداد و شمار تیار کرنے کے بعد ہی وہ منصوبہ بنایا جا سکتا ہے جو اس تدبیر کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔مدبر حقیقی تو اسی کی ہستی ہے اس کی تدبیر اور اسی کا حکم اور اسی کا امر آسمانوں اور زمین پر چلتا ہے لیکن چونکہ اس نے انسان کو اعلیٰ روحانی ترقیات کے لئے پیدا کیا تھا اس لئے اس نے انسان کو یہ اختیار دیا کہ چاہے وہ ہدایت کی راہ کو اختیار کرے اور چاہے وہ شیطانی راستوں پر چلنے لگے۔اس اختیار دینے کے نتیجہ میں اور اس وجہ سے کہ اس نے بڑی اخلاقی اور روحانی اور جسمانی ترقیات کرنی تھیں، جہاں تک انسان کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی