خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 867
خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۷ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء سامنے آئے گا جب کبھی وہ تمہارے سامنے اس رُوپ میں آئے تو ہم تمہیں ایک جواب سکھاتے ہیں وہ جواب تم اس کو دے دیا کرو تم اس سے کہہ دیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔الا إِنَّهُمُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ تم اصلاح کا جو بھی جامہ پہنو ہم تمہیں پہچانتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے کہ تم ہی مفسد ہو تمہارا مصلح کے روپ میں ہمارے سامنے آنا ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا۔منافق کی چوتھی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ منافق لوگ اپنے آپ کو بڑا عقل مند اور ہوشیار سمجھتے ہیں اور اپنے نفاق کو اپنی ہوشیاری کا نتیجہ سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی یہ حالت اول درجے کی حماقت کے مترادف ہوتی ہے لیکن یہ بات ان کے دماغ میں آتی ہی نہیں ان کا مرض لاعلاج ہو چکا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ان سے کہا جائے کہ آخر یہ سارے مسلمان جو ہیں ان کے دلوں میں ایمان اور بے نفسی پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے خلوص اور ایثار پایا جاتا ہے جس طرح اُنہوں نے اپنی تمام خواہشات اور اپنی بزرگیوں اور بڑائیوں کو اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت پر قربان کر دیا ہے تم کیوں نہیں ان کے رنگ کو اختیار کرتے اور اپنے اندر ایمان اور بے نفسی پیدا کر تے منافق یہ سن کر جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں۔یہ تو احمق ہیں مالی قربانی کا مطالبہ ہوتا ہے تو یہ اپنے بیوی بچوں کو بھوکا مار دیتے ہیں مگر قربانی ضرور دیتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ بیوی بچے بھوکے مرتے رہیں اور مالی قربانیوں پر زور ہو پھر جن منافقین کے گھر باہر ہوتے ہیں اور بظاہر ان کے گھروں کے پہرے یا حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا اِ دھر انہیں وقت کی قربانی دینے سے بھی گریز ہوتا ہے اور بہانہ بنا لیتے ہیں کہ ان بيوتنا عورة - (الاحزاب: ۱۴) ہمارے یہاں تو پہرے کا انتظام نہیں اس لئے ہم سے وقت کی قربانی کا مطالبہ نہ کریں اور ہمیں باہر نہ بھیجیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حفاظت کا سارا دارو مدار ان کی موجودگی پر ہے حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ہوتے ہیں ہمارے ملک میں بھی مختلف مواقع پر فسادات رونما ہوتے رہے ہیں اور بہت سے احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کی شان کو بچشم خود دیکھا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ احمدی کا اکیلا گھر تھا ایک بھرا ہوا مجمع اس پر حملہ آور ہوا مگر واپس