خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 868 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 868

خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۸ خطبہ جمعہ ۱۲ر ستمبر ۱۹۶۹ء چلا گیا اور اس گھر کے مکین احمدیوں کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچا سکا اور بعض دفعہ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ بعض احمدی گھرانوں میں مرد موجود نہیں تھے صرف عور تیں تھیں۔چنانچہ جب بھی اس قسم کے گھر پر مشتعل ہجوم حملہ آور ہوا تو ان کے سامنے اکیلی عورت کھڑی ہوگئی اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اس گھر کو اپنی حفظ وامان میں لے لیا اس حفاظت کا ایک زبر دست نظارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت دکھا یا جب آپ صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے تھے جہاں ایک بڑے مشتعل ہجوم نے آپ پر حملہ کیا اور یہ نہتے دُہری چاردیواری کے اندر اپنے قادر و توانا خدا کے سہارے بیٹھے تھے۔مادی لحاظ سے یا دنیوی سامانوں کے لحاظ سے اپنی مدافعت کا کوئی سامان ان کے پاس نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ جو عظیم قدرتوں کا مالک ہے اس کی حفاظت کا شرف انہیں حاصل تھا چنانچہ ہجوم باہر کا دروازہ توڑ کر اندر صحن میں داخل ہو گیا پھر اندر کے صحن کا دروازہ تو ڑ ہی رہے تھے کہ کسی نامعلوم وجہ سے اپنے آپ ہی واپس چلے گئے اب دنیا کو تو وہ وجہ نظر نہیں آتی لیکن ہمیں تو وہ وجہ نظر آتی ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا زبر دست رُعب تھا جو ان کے دلوں پر ڈالا گیا اور وہ اس وجہ سے ڈر کر واپس چلے گئے چنانچہ یہ ایک عظیم معجزہ اور اللہ تعالیٰ کے پیار کا ایک عجیب مظاہرہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں رونما ہوا۔جس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے تو ہمیں بھی اس طرح اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان حاصل رہے گی اور مخالف کا کوئی وار کامیاب تو کیا ہو گا وہ اس موقع پر خود ہی خائب و خاسر ہوکر لوٹ جائے گا۔پس یہاں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر بار کو خدا کے سپر د کر کے خدا تعالیٰ کے لئے اپنا وقت دینے کے لئے چلا جاتا ہے وہی عقل مند ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میرا گھر نگا ہے پہرے کا کوئی انتظام نہیں اجازت دیجئے کہ میں جہاد میں شامل ہونے کی بجائے گھر بار کی حفاظت کروں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا شخص دراصل غیر محفوظ ہے وہ چاہے جتنے مرضی انتظام کرے، مضبوط سے مضبوط قلعے بنالے وہ ملک الموت سے بچ نہیں سکتا وہ ایسے وقت میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔