خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 789
خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۹ خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۶۹ء ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ اگر اس کے سامنے حُسنِ اخلاق اور محسن سلوک کے نمونے پیش کئے جائیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گرویدہ اور عاشق بن جائے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق محبت قائم ہو جانے سے اللہ تعالیٰ کا پیارا سے حاصل ہو جائے لیکن ہم اس بھولی بھٹکی انسانیت کو تباہی سے بچانے میں صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ ہماری زندگیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیض سے مستفیض اور آپ کے حسن اخلاق اور حسن سلوک کے رنگ میں رنگین ہوں۔اگر خدانخواستہ ہم اس میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر انسانیت کے لئے ہلاکت یقینی ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتی۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ساری انسانیت کے بچاؤ اور حفاظت کی ذمہ داری آپ پر ڈالی گئی ہے اگر کوئی انہیں ہلاکت سے بچا سکتا ہے تو وہ آپ ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم اور رَحْمَةٌ لِلعلمین کے جلوے آپ پر ظاہر ہوئے ہیں۔یہ دو حسن ایسے ہیں کہ ان کو دیکھ کر انسانی دل ان سے متاثر اور ان کی طرف مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔پس یہ ہماری دو بنیادی ذمہ داریاں ہیں آج تو میں نے اس کی تمہید ہی بیان کی ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو اس کی تفصیل میں مجھے آٹھ دس خطبے دینے پڑیں کیونکہ جماعت میں جو زیادہ پڑھے لکھے نیز جو کم تعلیم یافتہ ہیں ہر ایک کو مد نظر رکھ کر بتانا پڑے گا ویسے ہماری جماعت میں اس معنی میں تو شائد ہی کوئی کم پڑھا لکھا ہو جس معنی میں یہ فقرہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے بہر حال ہماری جماعت اپنے علم کے لحاظ سے، اپنی استعداد کے لحاظ سے مختلف لوگوں پر مشتمل ہے۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو سمجھانا ضروری ہے ہر ایک کو اس کی ذمہ واری کا احساس دلا نالازمی ہے۔ہر ایک کو یہ بات ذہن نشین کرانی ہے کہ انسانیت اس وقت خطرے میں ہے اور صرف وہی اس کو تباہی سے بچا سکتے ہیں اس لئے اپنی زندگی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کے جلوؤں سے منور بنائیں تا کہ لوگ آپ کی زندگی میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی چمک دیکھ سکیں۔اگر آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق ، اگر آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کے جلوے اپنی زندگی میں اپنے عمل سے غیر کو دکھا نہیں سکتے تو پھر یہ دعویٰ غلط ہے