خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 788 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 788

خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۸ خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۶۹ء والی ہے اور اسے اس راہ پر سے پرے ہٹا سکتے ہیں جو آج دہریت کی طرف ، جو آج بداخلاقی کی طرف، جو آج نا انصافی کی طرف، جو آج انسانیت کی بدترین دشمنی کی طرف لے جارہی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر ایک کو نظر آ رہی ہے اور ایک ایسی بات ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اس لئے آج یہ سوال بڑی شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا ہم بنی نوع انسان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور لے جانے والی راہ پر چلنے دیں گے یا ان کے دل جیت کر انہیں اس شاہراہ پر گامزن کر دیں گے جو سیدھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کی طرف لے جانے والی ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے جماعت احمدیہ کی یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہے کیونکہ جماعت میں داخل ہونے کا سوائے اس کے اور کوئی مقصد نہیں ہے کہ انسانیت کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے لئے جیت لئے جائیں آپ میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ آپ تباہی کے گڑھے کے کنارے کھڑی انسانیت کو تباہی سے دو چار ہونے سے بچانے کی کوشش کریں اور آپ کی یہ کوشش صرف عقلی دلائل سے کامیابی کا منہ ہرگز نہیں دیکھ سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کا دماغ کچھ ایسا بنایا ہے کہ وہ ایک سچی دلیل کے مقابلہ میں ایک سوفسطائی دلیل گھڑ لیتا ہے اور انسانی دل اس پر تسلی پا جاتا ہے۔ہم اس کو حماقت کہہ سکتے ہیں یا جو مرضی آئے کہہ سکتے مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بسا اوقات ہم کسی کو اس عقلی دلیل کے ذریعہ سے اُسے تباہی سے بچا نہیں سکتے لیکن جب وہ انسان جو اب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دُور ہیں اور آپ کے خلق عظیم سے بے بہرہ ہیں ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق اور حسن سلوک کے جلوے بطور ظل کے ہماری زندگیوں میں نظر آنے لگ جائیں گے تو پھر وہ کسی اور حسن پر فریفتہ ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ دنیوی حسن خواہ کسی رنگ کا ہو مثلاً پھول کا حسن ہے اچھی زبان کا بھی ایک حسن ہے ہر خوبصورت چیز انسان کا دل موہ لیتی ہے اور انسانی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے تاہم یہ سارے د نیوی حسن نسبتی ہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں یہ جو د وحسن پائے جاتے ہیں یہ حقیقی ہیں اگر کسی کو حقیقی چیز مل جائے تو وہ نسبتی چیز کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا کیونکہ انسانی فطرت کے خلاف