خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 63
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء تا بمقدور کار بند ہو جائے۔قرآن کریم نے تقویٰ کے اس معنی کو مختلف مقامات پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكِنَّ اللهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكَفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَبِكَ هُمُ الرَّشِدُونَ (الحجرات : ۸) یہاں بھی تقویٰ کے معنی ایک نہایت حسین پیرایہ میں بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ایمان کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا کی وَ زَيَّنَهُ في قُلُوبِكُم اور تمہارے دلوں کو اس نے اپنے فضل سے اس حقیقت تک پہنچا دیا کہ حقیقی روحانی خوبصورتی تقوی کے بغیر ممکن نہیں اور نہ روحانی بدصورتی سے تقویٰ کے بغیر بچا جا سکتا ہے۔تو ایک طرف تقویٰ ہر حکم الہی کی بجا آوری میں بشاشت پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف ہراس چیز سے نفرت پیدا کرتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکالنے والی اور اس کی ناراضگی کو مول لینے والی ہو۔یہاں تقویٰ کے متعلق ہی ایک لطیف مضمون بیان ہوا ہے جس کی تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا بہر حال یہ اشارہ کافی ہے۔اسی وجہ سے سورہ بقرہ“ کے شروع میں ہی فرمایا تھا ھدًی لِلْمُتَّقِيْنَ اور سورہ بقرہ میں ایک دوسری جگہ آگے جا کے آیت ۱۹۰ میں یہ فرما یا وَ لكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں کو اختیار کرتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا کہ آلبر کامل نیک وہ شخص نہیں جو اپنے اوقات کو نمازوں میں زیادہ خرچ کرتا ہے اپنے اموال کو خدا کی مخلوق کی محبت میں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے یا حج کرتا ہے یا رمضان کے روزے رکھتا ہے بلکہ کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے جو شخص تقویٰ کی راہوں کا خیال رکھتا ہے باقی اعمالِ صالحہ یا اقوالِ پاکیزہ جو ہیں وہ اسی طرح اس سے نکلتے ہیں جس طرح ایک جڑ سے کسی درخت کی شاخیں نکلتی ہیں جس کی مثال دی گئی ہے تقویٰ کے سلسلہ میں ہی اور اس کے متعلق آگے جا کر میں کچھ بیان کروں گا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کامل نیک (آلبر ) وہ ہے جو تقویٰ کی تمام راہوں پر