خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 736
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۶ خطبہ جمعہ اار جولائی ۱۹۶۹ء نہیں ہوتیں وہ اقتصادی لحاظ سے کبھی نہیں اُبھریں۔قرآن کریم میں یہ بھی آتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں کہ اِذا كَانُوهُمْ اَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (الْمُطَفِّفِين : ۴) کہ جب تول کر دیتے ہیں یا وزن کرتے ہیں یا پیمائش کرتے ہیں یا ایک معیار مقرر کرتے ہیں تو اس معیار پر پورے نہیں اُترتے مثلاً ہا کی ایک کھیلنے کی چیز ہے بچے اس مثال کو سمجھ جائیں گے اگر کسی کالج نے درجنوں کے حساب سے ہاکیاں خریدنی ہیں اور دکاندار ایک معیاری ہا کی انہیں دکھاتا ہے لیکن اگر بعد میں وہ اس معیار کی ہاکیاں نہ دے تو یہ چیز بھی اسی آیت کے نیچے آ جاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اسلام کے اقتصادی نظام کو ایسا بنایا ہے کہ بخل اس میں کوئی مفسدانہ کھیل کھیل ہی نہیں سکتا بلکہ بخل کے نتیجہ میں جو مختلف شکلوں کی حق تلفی ہو سکتی تھی اسلام کے اقتصادی نظام میں اس حق تلفی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔نفس کی پانچویں آفت ریا ہے یعنی دکھاوے نمائش کے لئے کام کرنا۔اللہ تعالیٰ نے جو اقتصادی اصول وضع کئے ہیں ان میں ریا اور نمائش کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے جو لوگ ریا سے کام لیتے اور نمائش یعنی دکھاوے کے لئے کام کرتے ہیں وہ اپنے اصل حقوق سے زیادہ خرچ کر رہے ہوتے ہیں یا زیادہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ کسی فرد واحد کی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے ریا اور نمائش کی ضرورت نہیں ہے۔عقل بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتی اور مذہب اسلام بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا اور ہر وہ چیز جس کی کسی فرد واحد یا خاندان یا قوم یا اقوام کی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے ضرورت نہ ہو اس کی اسلام کے اقتصادی نظام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔قرآن کریم میں نمائش کرنے والوں اور دکھاوے کے طور پر کام کرنے والوں کا بھی ذکر موجود ہے اور پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا بھی اظہار ہے۔اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے متعلق فرماتا ہے۔اَهلَكْتُ مَالًا تُبدا (البلد : ) کہ ایسا انسان کہے گا میں نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کر دیا۔یہیں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ہے کہ مال خرچ کرنا فی نفسہ کوئی نیکی نہیں ہے۔حق کی ادا ئیگی میں مال خرچ کرنا نیکی ہے کس کو کوئی چیز دینا نیکی نہیں ہے بلکہ کسی کا اصل حق ادا کرنا نیکی ہے