خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 735 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 735

خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۵ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء بعض قوموں کی تباہی کا وقت قریب آرہا ہے اور احمدیت کی ترقی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کی ہے تمہارا کوئی حق اس پر نہیں ہے کیونکہ اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور جو حقیقی مالک ہو یہ اسی کا کام ہے کہ وہ بتائے کہ جو اس کی چیزیں ہیں وہ کس کو کس رنگ اور کس طریق سے پہنچنی چاہئیں۔بعض دفعہ وہ خود ایسا انتظام کرتا ہے کہ حق دار کو اس کا حق مل جاتا ہے یا بعض دفعہ پورا نہیں تو ایک حد تک حق دار کو اس کا حق مل جاتا ہے۔یعنی کلی طور پر اپنے حقوق کے لینے میں وہ محروم نہیں رہتا لیکن بعض دفعہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی روحانی اور اخلاقی ترقی کے لئے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ حق تو زید کا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ بکر کو دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے بکر ! یہ تیرا حق نہیں یہ تو میں نے تیری ترقی کے لئے سامان پیدا کئے ہیں کہ تو جس کا حق ہے اسے پہنچا دے جو چیز تیری نہیں تھی جو چیز کسی دوسرے کی تھی اگر میرے کہنے پر میری رضا کے حصول کے لئے بخل سے بچتے ہوئے تو یہ چیز اس کے حق دار کو پہنچا دے گا تو تیرا اس میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ در حقیقت یہ چیز تیری تھی ہی نہیں البتہ اس میں تیرے لئے بہت فائدہ ہے کیونکہ اس طرح تم میری رضا کو تم میری محبت کو ، تم میرے پیار کو اور ہر اس خیر کو جس کا منبع میں ہوں اور ہر اس فیض کو جس کا سر چشمہ میں ہوں پالو گے۔بخل کے نتیجہ میں انسانی فطرت اس طرف بھی مائل ہو جاتی ہے کہ جب انسان ماپ اور تول والی چیزوں کو لینے لگتا ہے تو زیادہ لیتا ہے یعنی دوسرے کے حق کو چھینے کی کوشش کرتا ہے اور جب اسے کوئی چیز دینے لگتا ہے تو کم تول کر یعنی کم اور چھوٹے پیمانے سے اس کو ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام میں ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اوفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (الانعام : ۱۵۳) کہ ماپ اور تول کو تم حق و انصاف کے ترازو پر تولا کرو اس میں صرف گئیل اور میزان ہی نہیں بلکہ معنی کے لحاظ سے ہر ایک چیز کا پیمانہ مراد ہے مثلاً با ہمی معاہدات ہوتے ہیں کہ اس قسم کی چیز دینی لینی ہے جیسے مثلاً روئی ہے تو اس قسم کی روئی ہو۔گندم ہے تو اس قسم کی گندم ہو۔ویسے اب گندم کی بھی بہت سی قسمیں نکل آئی ہیں تاہم لین دین میں اس معاہدہ کی اصل روح کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قومیں جو اپنے عہد و پیمان کو انصاف سے پورا کرنے والی