خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 734
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۴ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء اس کے لئے تمہیں کبھی کوشش کرنی چاہیے۔نفس کی چوتھی آفت جو اقتصادیات پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے وہ بخل کی آفت ہے۔بخل کے معنے بھی حق کو ادا نہ کرنے کے ہیں۔کیونکہ بخل یہ ہے کہ کسی چیز کو دوسرے کو دینے سے روکے رکھنا جس کے روکے رکھنے کا اسے کوئی حق نہ تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ زید کا بکر پر اللہ تعالیٰ نے ایک حق قائم کیا تھا اور بکر یہ حق ادا کرنے سے گریز کرتا ہے اس کو بخل کہتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ بخل کی آفت فخر و مباہات کے منبع سے سر ابھارتی ہے، اور بخل سے پر ہیز کرنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ فخر و مباہات سے اجتناب کیا جائے۔پس بخل کے معنے یہ ہوئے کسی کا حق تھا اور یہ حق کسی دوسرے پر تھا لیکن جس پر حق تھا وہ یہ حق حقدار کوا دا نہیں کر رہا۔اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ b ود b بمَا الهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيْطَوَقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاتُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - (ال عمران : ۱۸۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخیل کے لئے اس کا بخل اچھے نتائج پیدا نہیں کرے گا یہ اس کے لئے خیر کا موجب نہیں ہوگا۔بعض قو میں بڑی بخیل ہیں اگر آپ ان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے تاریخی ادوار میں اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی لعنتوں کی وارث بنتی رہی ہیں۔خیر کی وارث کبھی نہیں بنیں کیونکہ فرمایا ہے بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُم اس بخل کا نتیجہ خیر ہو ہی نہیں سکتا بلکہ ان کی بعض دنیوی ترقیات کے لئے ، ان کے ذہنی نشو ونما کے لئے ان کی اخلاقی ترقیات کے لئے اور ان کی روحانی ترقیات کے لئے برا نتیجہ نکلے گا اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو نیک قو تیں اور استعداد میں عطا کی ہیں وہ اس رنگ میں اپنے نشو و نما کے کمال کو نہیں پہنچ سکیں گی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو حاصل کر سکیں بلکہ ان کا یہ بخل اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کا موجب بنے گا اور انہوں نے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہ کر کے جواموال یا سونا اور چاندی وغیرہ جمع کئے ہیں وہ ان کے کسی کام نہیں آئیں گے وہ ان کے گلے کا طوق بنادیئے جائیں گے اگر چہ ایسا اس دن ہو گا جس دن اللہ تعالیٰ ان کی اس تباہی کا فیصلہ کرے گا تاہم اس دنیا میں بھی