خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 730 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 730

خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۰ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء پھر آگے اس کی دو قسمیں ہیں ایک حق نفس کے ساتھ تعلق رکھنے والی توحید علمی اور دوسری حق نفس کے ساتھ تعلق رکھنے والی توحید عملی۔حق نفس سے تعلق رکھنے والی توحید علمی یہ ہے کہ انسان نفس کی کمزوریوں اور نفس کے عیوب اور نفس کی آفات اور نفس کے رزائل کا علم رکھے اور حق نفس سے تعلق رکھنے والی توحید عملی یہ ہے کہ ان آفات نفس سے بچنے کی کوشش کرے۔نفس امارہ کے مطالبوں سے مغلوب نہ ہو بلکہ غالب ہو کر نفس تو امہ کی ہدایتوں کے ماتحت نفسِ مطمئنہ کی تلاش میں زندگی کے دن گزارے اور پھر اسے حاصل کرے۔حق نفس سے تعلق رکھنے والی اس توحید کو ہم ورع یا زہد و تعبد کا نام بھی دیتے ہیں یعنی ان آفات کو جاننا اور ان سے بچنے کی کوشش کرنا اور ان پر غالب آنا نفس کی آفات کا بڑا گہرا تعلق اقتصادیات سے بھی ہے اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نظر انداز کر دیا جائے اور نفس کی خواہشات کی پیروی کی جائے تو ایک ایسا اقتصادی نظام قائم ہوتا ہے جو انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوتا اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کا موجب بنتا ہے۔نفس کی پہلی آفت ظلم ہے ظلم کے لغوی معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کے جو حقوق ہیں ان سے زائد طلب کرنا اور جو غیر کے حقوق ہیں ان کو روکنا اور ان کو ادا نہ کرنا یہ ہر دو کام یعنی دوسرے کی حق تلفی اور اپنے لئے حق سے زیادہ چاہنا اور حاصل کرنا یہ ظلم ہے کیونکہ یہ ہر دو وضعُ الشَّيْءِ في غَيْرِ مَحَلَّه کے دائرہ کے اندر آتے ہیں۔اس ظلم کے نتیجہ میں بہت سی اقتصادی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔قرآن کریم نے ان کا وضاحت سے ذکر کر کے ان سے منع فرمایا ہے بلکہ اس کو لعنتی ذہنیت قرار دیا ہے کہ انسان اپنا حق تو اصل حق سے زائد سمجھے اور دوسرے کے حق کو اس کے اصل حق سے کم سمجھے۔اللہ تعالیٰ سورہ یسین میں فرماتا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْطْعِمُ مَنْ تو يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ - (يس: ۴۸) فرمایا کہ دنیا میں بعض لوگ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری یعنی کفرانِ نعمت کرنے والے ہوتے ہیں جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازا اور رزق عطا