خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 731
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۱ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء کیا ہے اس رزق اور ان نعمتوں کو ان حقوق کے مطابق خرچ کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی حق قائم نہیں کیا۔ہم خود حقوق کو قائم کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے حق کو قائم کرنا تھا تو محتاج اور اپنے حق سے محروم نظر آنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ کسی کو بھی محتاج و محروم نہ رکھتا وہ خودان کے حقوق ادا کر دیتا۔پس ایسے لوگ دوسروں کے حقوق کے متعلق اس اصل سے انکار کرتے ہیں کہ دنیا میں تمام حقوق اللہ تعالیٰ ہی قائم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جو کسی کا حق قائم کرنے کی مجاز ہو کیونکہ اس نے ہمیں پیدا کیا اور اسی نے ہمیں قو تیں اور استعداد میں عطا کیں اور پھر ان کی نشو و نما کے سامان بھی پیدا کئے۔پس اللہ تعالیٰ ہی ہے جو پیدا کرتا ہے وہی ہر ایک کو بہتر جانتا اور وہی ہر ایک کے حق کو قائم کر سکتا ہے کسی دوسرے کو تو نہ ان قوتوں اور استعدادوں کا علم ہے نہ کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مخلوق باری تعالیٰ کے حقوق کے متعلق کوئی فیصلہ کرے مگر یہ ناشکرے لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اموال میں دوسروں کا کوئی حق نہیں ہے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو عزت و اکرام کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ عزت و اکرام کی نشانی اور علامت جانتے ہیں۔جیسا کہ سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَهُ رَبُّهُ فَاكْرَمَهُ وَنَعَمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَن - (الفجر : ١٢ ) کہ جب اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے بعض کو آزمانا چاہتا ہے تو ایک خاص قسم کی ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر ڈال دیتا ہے اور اس آزمائش سے ان کے لئے عزت اور وجاہت کے حصول کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں نعمتوں سے نوازتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اگر تم اس رزق کو اور ان نعماء کو میری ان ان ہدایتوں کے مطابق خرچ کرو گے تو میری نگاہ میں تم معزز بن جاؤ گے۔بعض لوگ تو اس بات کو سمجھتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اس راز کو سمجھتے ہی نہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ربی اگر من یعنی میرے اندر کچھ اس قسم کی ذاتی خوبیاں ہیں کہ میرا رب بھی میری عزت و اکرام کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔حالانکہ ان کو یہ نعما ء اس لئے دی گئی تھیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ان کو جائز طور پر خرچ کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت و اکرام کو