خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 690 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 690

خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۰ خطبہ جمعہ ۲۰/ جون ۱۹۶۹ء میں نے اس کے لئے چھ ماہ کا عرصہ رکھا تھا لیکن بہت سے دوستوں نے میری توجہ اس طرف پھیری ہے کہ چھ مہینے کے اندر سارے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لینا یا بہتوں کے لئے ناظرہ پڑھ لینا بھی ممکن نہیں۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم نہ ختم ہونے والا سمندر ہے۔انسان ساری عمر قرآن کریم سیکھتا رہے پھر بھی وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس نے قرآنی علوم سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔بہر حال چونکہ بہت سوں کے لئے چھ ماہ کے عرصہ میں قرآن کریم ناظرہ سیکھنا یا اس کا ترجمہ سیکھنا مشکل ہے۔بعض کے لئے شائد ممکن ہی نہ ہو اس لئے اس مدت کو چھ ماہ سے بڑھا کر جیسا کہ دوستوں نے مشورہ دیا ہے میں ڈیڑھ سال تک کر دیتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ ڈیڑھ سال میں سارے نہیں تو بڑی بھاری اکثریت اگر وہ دل سے قرآن کریم پڑھیں تو قرآن کریم ناظرہ پڑھ لیں گے اور ترجمہ سیکھنے والے ترجمہ سیکھ لیں گے ویسے تو ہمارے خاندان میں بھی بعض بچے ایسے ہیں جن کے متعلق مجھے ذاتی علم ہے کہ انہوں نے چھ ماہ کے اندر قاعدہ یسر نا القرآن اور قرآن کریم ناظرہ ختم کر لیا تھا لیکن سب بچے یا سب بڑے بھی ایسے نہیں ہوتے اس لئے کوئی حرج نہیں کہ چھ ماہ کی مدت کو ڈیڑھ سال میں تبدیل کر دیا جائے لیکن شرط یہی ہے کہ کام میں شستی اور غفلت پیدا نہ ہو۔زیادہ سے زیادہ محنت اور زیادہ سے زیادہ توجہ سے قرآن پڑھا اور پڑھایا جائے۔قرآن کریم کی تفسیر کا جہاں تک تعلق ہے اور قرآن کریم کے معانی اور مطالب اور معارف کے سمجھنے کا جہاں تک تعلق ہے اس کے دو حصے ہیں ایک تو یہ ہے کہ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزہ اور مطہر نہ ٹھہرے اس وقت تک اللہ تعالیٰ ایسے بندہ کا معلم اور استاد نہیں بنا کرتا۔وہ پاک ہے اور پاک کے ساتھ ہی وہ اپنے تعلق کو قائم کرتا ہے۔اس لئے بڑی دعا ئیں کرنی چاہئیں کیونکہ کوئی شخص قرب کے مقامات کو فضلِ الہی کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔قرآن کریم پر غور اور فکر اور تدبر کرنے کے لئے ایک بڑا وسیلہ اور ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے شروع میں جو سورہ فاتحہ ہے اور ائم الکتاب کہلاتی ہے اسے آدمی پڑھے اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے بیان فرمایا