خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 605 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 605

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ کی جو مرضی تھی وہ پوری ہوئی اور جب وہ مرضی پوری ہوئی تو بعض بندوں نے کہا انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ - مَا شَاءَ اللهُ - لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ خدا کے فیصلہ اور منشا اور اس کے ارادے کے بغیر تو کوئی چیز ہوتی نہیں اور یہ چیز اس کی تھی اس نے واپس لے لی۔ایک ہاتھ سے اس نے یہ چیز ہمارے ہاتھ میں پکڑائی اور دوسرے ہاتھ سے واپس لے لی اور کہا میں تمہاری آزمائش کروں گا اور دیکھوں گا کہ تم یہ چیز میری سمجھتے ہو یا اپنی سمجھتے ہو۔چنانچہ اس نے کسی سے تو روپیہ کا روپیہ واپس لے لیا، کسی سے روپیہ میں سے بارہ آنے واپس لے لئے کسی سے اٹھنی واپس لے لی۔کسی سے چوٹی واپس لے لی اور کسی سے دوٹی واپس لے لی۔پھر دیکھا کہ ان کا رد عمل کیا ہے۔کیا ان کے ہونٹ لٹکتے اور پھڑ پھڑاتے ہیں۔ان کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں یا وہ بشاشت کے ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں اور جو کچھ باقی رہ گیا ہے اس کے کنارے پر کھڑے ہو کر الْحَمدُ لِلهِ پڑھتے ہیں۔اگر وہ دوسرا طریق اختیار کرتے ہیں تو وہ حقیقی طور پر خدا تعالیٰ کی پرستش کرتے ہیں۔ان کی عبادت میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں لیکن جو لوگ شکوہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا حق ہم سے چھین لیا اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو کچھ ہمیں ملا وہ بھی تو ہمارا حق نہ تھا وہ بھی خدا کی چیز تھی اور اس نے ہمیں اپنے فضل اور انعام کے طور پر دی تھی ان کی عبادت حقیقی نہیں۔وہ شرک میں مبتلا ہیں۔غرض جو چیزیں ہم سے چھینی جاتی ہیں ان کے متعلق بھی ہمارا ایک رد عمل ہوگا اور جو چیز باقی رہ جاتی ہے اس کے متعلق بھی ہم فیصلہ کرتے ہیں۔اب اگر کوئی یہ فیصلہ کرے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے ظلم سے زبر دستی چھین لیا ہے اور جو چیز باقی رہ گئی ہے وہ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کروں گا تو ایسا آدمی بڑا احمق ہے کیونکہ جو کچھ رہ گیا ہے اس پر بھی تو وبال آ سکتا ہے اس پر بھی تو ہلاکت کی آندھیاں چل سکتی ہیں اس پر بھی تو تباہی آسکتی ہے یا اس کے نتیجہ میں اس کے گھر میں بیماری پیدا ہو سکتی ہے اگر خدا کا یہی منشا ہو تو۔مثلاً باغ کا مالک بڑے فخر سے پھل تو ڑ کر لاتا ہے اور اس پھل کے اندر خدا تعالیٰ نے بیماری کے کیڑے پیدا کئے ہوتے ہیں۔وہ وہ پھل چھپا کر گھر لاتا ہے کہ رستہ میں اسے کوئی غریب اور محتاج نہ مل جائے کہ اسے وہ پھل دینا پڑے اور گھر آ کر بچوں کو کہتا ہے میں تمہارے لئے یہ پھل چھپا کر لایا ہوں آؤ ا سے کھاؤ۔بچے وہ پھل کھاتے