خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 525
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۵ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے پیار کا قرب حاصل کرے فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبُ - (هود: ۶۲) اس کے بعد فرمایا:۔قرآن مجید سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب تین قسم کا ہے ایک قرب عام ہے اور اس قُرب کو پانے والے ہر قسم کے درخت ، جانور اور ہرقسم کی مخلوقات ( جس میں انسان بھی شامل ہے ) اس قرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں فرمایا ہے کہ وہ اپنی قدرت اور علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے، ہر چیز سے باخبر ہے، درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا کہ وہ اس کے علم اور منشا کے مطابق نہ ہو اور جو دانے انسان کی نظر سے زمین سے اوجھل ہو جاتے ہیں ان پر بھی اس کی نگاہ ہوتی ہے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔انسان کو اس نے کہا کہ میں تمہارے اندرونی راز اور گہرے خیالات سے بھی واقف ہوں۔قرآن کریم کی بیبیوں آیات اللہ تعالیٰ کے اس قرب عام کی طرف اشارہ کرتی ہیں