خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 522

خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۲ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء الله جَلَّ شَانُه فرماتا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ رءوف بِالْعِبَادِ (البقرة : ۲۰۸) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے " 9 پس اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت اور اس کی خوشنودی اور اس کی محبت کو پانے کا ایک وسیلہ استقامت ہے۔یعنی جو رشتہ اس سے جوڑ اوہ کسی حالت میں قطع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس طور پر استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحی کی اتباع کرے گا اور شریعتِ اسلامیہ کی پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے حق میں وہ فیصلہ کر دے گا جو اس نے انہیں بشارت کے رنگ میں پہلے بتا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ یونس میں فرماتا ہے۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ (يونس: ١١٠) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اور آپ کے طفیل انسان کی حقیقی بھلائی اور ابدی مسرت کے لئے قرآن کریم کی شکل میں نازل کی گئی ہے جو شخص اس کی اتباع کرتا ہے اور صبر کا نمونہ دکھاتا اور استقامت کے مقام کو مضبوطی سے پکڑتا ہے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے اور بشارتیں پوری ہوتی ہیں جو اُمتِ مسلمہ کو دی گئی ہیں جو ہر اُس شخص کو دی گئی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے آپ کو منسوب کرتا اور قرآن کریم کا جوا اپنی گردن پر رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے نزول کے لئے اتباع وحی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صبر اور استقامت نہایت ضروری ہے جو شخص صبر میں کمزوری دکھاتا ہے استقامت یعنی ثبات قدم میں کمزور ہوتا ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شریعت نازل ہوئی ہے اس کی اتباع صحیح طور پر اور صحیح رنگ میں نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سے مدد نہیں چاہتا استغفار نہیں کرتا اور خود کو کمزور پا کر اپنے ربّ کی قوت کا سہارا نہیں لیتا اور اپنی محبت میں اس قدر وفا کا نمونہ نہیں دکھا تا جود نیا کو ورطۂ حیرت میں