خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 521 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 521

خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۱ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء نامردی نہ دکھلا وہیں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں۔ذلت پر خوش ہو جائیں۔موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوسرے دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بے کس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلّی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ بادا باد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضا و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہرگز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے۔یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے۔اسی کی طرح اللہ جل شانہ اس دعا میں اشارہ فرماتا ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحۃ:۷،۶) یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں استقامت کی راہ دکھلا دے وہی راہ جس پر تیرا انعام و اکرام مترتیب ہوتا ہے اور تو راضی ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ فرما یا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَقَنَا مُسْلِمِینَ (الاعراف: ۱۲۷) اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آجائے اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہیے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوتِ ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے ربّ کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا مُحِب بلا کے اُترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بیکی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے اسی کے حق میں