خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 520
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۰ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء ہو جائے اللہ تعالیٰ کی محبت اسے حاصل ہو اور وہ اس کا محبوب بن جائے۔اس طرح اس کا مقصد اسے حاصل ہو اس مقصد کے حصول کی جو راہیں بتائی گئی ہیں ان میں ایک استقامت ہے یعنی جب رشتہ جوڑا تو پھر طوفان، آندھیاں، زلزلے، ساری دنیا کی نفرت اور ساری دنیا کی کوشش اس رشتہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو۔ایک دفعہ اس پیارے کے پیار میں گم ہوئے تو پھر اس محبت کے سے سر باہر نہیں نکالنا۔یہ ہے استقامت اور جب تک استقامت حاصل نہ ہو یعنی ہمیشہ کے لئے پختہ عہد نہ ہو اس وقت تک ہم اللہ تعالیٰ کے دائمی فضلوں کو حاصل نہیں کر سکتے اور اس آخری کامیابی اور فلاح کے وارث نہیں بن سکتے جس کا وعدہ اس نے اسلام کو دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وسیلہ کے متعلق فرماتے ہیں:۔”چھٹا وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے استقامت کو بیان فرمایا گیا ہے یعنی اس راہ میں درماندہ اور عاجز نہ ہو اور تھک نہ جائے اور امتحان سے ڈر نہ جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الحيوةِ الدُّنْيَا وَ في الْآخِرَةِ ( حم السجدة: ۳۲،۳۱) یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو اور خوش ہوا اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبروکو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے۔اس وقت