خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 420
خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۰ خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۶۸ء اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی ان کی پیش رو ہوتی ہے اور اسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوار قرآنی ان پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے۔پس یہ علامتیں قرآن شریف کے کامل تابعین میں اکمل اور اتم طور پر پائی جاتی ہیں وہ لوگ جو قرآن کریم کی اتباع میں کوشاں تو رہتے ہیں لیکن اپنی استعداد یا اپنے مجاہدہ کی کمزوری کے نتیجہ میں کامل تابعین کے مقام کو حاصل نہیں کر سکتے یا انہوں نے ابھی تک حاصل نہیں کیا اُن پر قرآن کریم کی یہ علامتیں اکمل اور اتم طور پر نازل نہیں ہو سکتیں لیکن اپنی اپنی کوشش اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق قرآن کریم کے انعامات اور اس کے فضلوں کی یہ علامتیں ان پر بھی نازل ہوتی ہیں کیونکہ صرف یہ تو نہیں کہ ایک بلند تر مقام تو ایک مسلمان کو مل سکتا ہے اور اس کے نچلے مقام اس کو نہیں مل سکتے یہ بات خلاف عقل ہے ہر شخص اپنی اپنی استعداد ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعداد کے متعلق جو بڑے عجیب اور لطیف پیرایہ میں روشنی ڈالی ہے ) کے مطابق اور اپنی مخلصانہ اور مقبول کوششوں کے نتیجہ میں ان فیوض سے حصہ پاسکتا ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں رکھے ہیں۔میں نے سوچا کہ سب سے کم حصہ جو ایک مسلمان خدا تعالیٰ کے اس عظیم قرآن کے فیوض سے حاصل کر سکتا ہے وہ اس قسم کی عقل ہے کہ وہ دوسروں کے بیان کردہ اسرای روحانی کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے یہ پہلا مرحلہ ہے یعنی ابھی اس کو وہ مقام تو حاصل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود اس پر اسرار قرآنی ظاہر کرے اور انوار قرآنی سے اسے منور کرے لیکن وہ اتنی عقل دے دیتا ہے کہ جن پر اسرار و انوار قرآنی بارش کی طرح نازل ہوتے ہیں ان کے بیان کردہ اسرار قرآنی کو ان کے منہ سے سننے یا ان کی کتابوں سے پڑھنے کے بعد وہ سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے کہتے ہیں نقل را عقل باید ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسرار روحانی کو خواہ وہ بڑی وضاحت سے بیان کئے گئے ہوں سمجھ سکے مثلاً جو شخص متوجہ ہی نہیں جس کی توجہ بہک جاتی ہے وہ آدھی بات سنتا ہے اور آدھی سنتا ہی نہیں وہ سمجھے گا کیسے؟ میں نے یہ ایک موٹی مثال دی ہے جس کو بچے بھی سمجھ جائیں گے غرض کم سے کم فیض جو انسان حاصل کر سکتا ہے وہ وہ عقل سلیم ہے جس کی نقل کے وقت