خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۹ خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۶۸ء انسان خدا کی نگاہ میں محبوب اور پیارا اور مطہر بن جاتا ہے تو پھر وہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ کے اسرار روحانی ان کو سکھاتا ہے وَالحکمۃ اور اس قرآن عظیم کی حکمت کی باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے طفیل ان پر ظہور ہونے لگ جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کامل اور مکمل ظلی معلم کے فیوض جاری ہوتے ہیں اور قیامت تک ایسے لوگ آپ کے فیض کے نتیجہ میں پیدا ہوتے رہیں گے جس طرح آپ ہی کے فیض کے نتیجہ میں آپ سے قبل آدم سے لے کر آپ کے زمانہ تک خدا تعالیٰ کے مقترب پیدا ہوتے رہے غرض اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ تزکیۂ نفس کے بعد ہی تعلیم الکتاب کا امکان پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص جو اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرتے ہوئے قرآن کریم کے بجوا کے آگے اپنی گردن رکھ دیتے ہیں اور اپنے نفس کو کلی طور پر فنا کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اور آپ کے طفیل اللہ تعالیٰ میں گم اور فنا ہو جاتے ہیں وہ قرآن کریم کی اس برکت سے ایک کامل اور مکمل حصہ پاتے ہیں آپ قرآن کریم کی برکات اور اس کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جو قرآن کریم کے متبعین پر مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔فرماتے ہیں۔ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوانِ نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔جب انسان فرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امر اور نہی کے بکلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی باقی نہیں رہتا۔تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الہی کے جو کلام الہی میں پوشیدہ ہیں اُس پر کھلتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں۔سو جو جو علوم و معارف ودقائق حقائق ولطائف ونکات وادلہ و براہین ان کو سو جھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے مرتبہ کاملہ پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارقِ عادت ہے