خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 418

خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۸ خطبه جمعه ۶ /دسمبر ۱۹۶۸ء تُو نے ایسا پیدا کیا تھا لیکن اس کے مطابق مجھے دلیل نہیں دی گئی اور ایک یہ ہے کہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سے نئے سے نئے دلائل اور نئے سے نئے حجج اور براہین لوگوں کو بتا تا رہتا ہے اور جن کو وہ یہ دلائل اور براہین سکھاتا ہے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے طفیل ظلی طور پر معلم بنا دیتا ہے اور اس معلم کا کام یہ ہے کہ درست تو لوگوں کو سکھلا دے ان کے سامنے بیان کر دے لیکن صرف یہ درس کافی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ درس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ہم نے یہ جاری کیا ہے کہ ایسے علماء ربانی پیدا ہوتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خشیت سے معمور اور اس کے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر قائم ہوتے ہیں اور لِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اللہ تعالیٰ ایسے علماء کی جماعت کے لئے قرآنی آیات کو کھول کر بیان کر دیتا ہے وہ مطہر نفس دنیا میں آکر قرآن کریم کے اسرار کو حاصل کرتے اور پھر ان کا درس دیتے ہیں۔اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو معلم حقیقی کے کامل ظل ہیں احکام قرآنی کو کھول کر بیان کرتے ہیں پس معلم تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے لیکن اس دنیا میں اگر کوئی کامل ظل معلم کی حیثیت میں پیدا ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ - (الجمعة: ۳) کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ان پڑھ قوم میں انہی میں سے ایک فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہے جو رسالت کے ارفع و اعلیٰ مقام پر فائز ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ وہ تمام احکام شریعت ان کے اوپر پڑھتا ہے جس بات کا ھدی للناس کے ساتھ تعلق ہے اس کو وہ کھول کر ان کو بتا تا ہے قرآن کریم فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں روزے رکھو دوسری شرائط کو پورا کرو، شور و غوغا نہ کرو، گالیاں نہیں دینی اپنی پوری توجہ قرآن کریم اور اس کی برکات کے حصول کی طرف پھیرنی ہے اپنے نفس کو (اس ماہ میں خصوصاً ) مارنے کی کوشش کرنی ہے اور اسلمتُ لِرَبِّ العلمین میں جس مقام کا ذکر ہے اپنی استعداد کے مطابق اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے وَيُزَكِّيهِمْ پھر اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں وہ ان کے نفوس میں بھی تزکیہ نفس پیدا کرتا ہے جب یہ تزکیہ نفس پیدا ہو جاتا ہے یعنی آپ کی قوت قدسیہ سے فائدہ اُٹھا کر اور آپ کے اسوہ پر عمل کر کے