خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 393 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 393

خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۳ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء کافی ہے نہ کسی کا ڈر باقی رہتا ہے اور نہ کسی اور کا سہارا لینے کی ضرورت رہتی ہے۔اِنَّ اللهَ بَالِغ آمریہ اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے مقصد کو پورا کر کے چھوڑتا ہے لیکن چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لئے قد جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ہر چیز کا ایک اندازہ اس نے مقرر کیا ہوا ہے مثلاً ابتلا کے زمانہ کا ایک اندازہ ہے، امتحان کے زمانہ کا ایک اندازہ ہے جو دکھ خدا کی راہ میں اٹھائے جاتے ہیں ان کا بھی ایک اندازہ ہے وہ دکھ بھی ایک اندازہ کے اندر ہی رہتے ہیں وہ اتنے نہیں بڑھتے کہ انسان ان کے نیچے آکر پس جائے اور اگر کسی کی قسمت میں شہادت کا انعام ہی لکھا ہو تو وہ اس کو مل جاتا ہے اور ایک عظیم جنت کا وہ وارث بن جاتا ہے غرض ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کیا ہے اس لئے انسان کو بےصبری اور جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ہوگا وہی جو خدا نے چاہا ہے اور اس کا فیصلہ ہے لیکن ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ اندازہ مقرر کیا تھا کہ آپ کی شان اور عظمت کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے آپ کی زندگی میں ہی دنیوی لحاظ سے ایک فتح عظیم آپ کو عطا کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اندازہ مقرر کیا کہ تین صدیاں نہیں گذریں گی کہ اسلام دنیا میں غالب آ جائے گا ممکن ہے کہ وہ پہلی صدی کے بعد غالب آجائے ممکن ہے دوسری صدی کے بعد وہ غالب آئے اس نے آخری حد تک مقرر کر دی ہے باقی حصہ ایمان بالغیب کے لئے چھوڑ دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس عرصہ میں اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا اور جو لوگ اسلام سے منہ موڑیں گے ان کی کوئی دنیوی حیثیت باقی نہیں رہے گی ان کی اتنی حیثیت بھی نہیں رہے گی جو آج کے معاشرہ میں چوہڑوں اور چماروں کی ہے۔اسلام ہی غالب ہوگا اور اسلام ہی معزز ہو گا اور دنیا کی ہر جگہ، ہر ملک، ہر شہر اور ہر قریہ خدائے واحد ویگانہ کی تسبیح اور تحمید کر رہا ہو گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہا ہوگا مقصد وہی پورا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے فیصلہ وہی جاری ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لیکن اس نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر دیا ہے اور وہ اس اندازے کے مطابق ہی ہوگا۔پھر ایک اور فائدہ (جو بڑا اہم اور بنیادی ہے ) جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اگر ہم کامل بھروسہ اور اعتماد رکھیں اور اس پر توکل کریں