خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 379
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۹ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء بسنے والے ہوں پاکیزہ زبانیں اس فضا میں باتیں کرنے والی ہوں پاک آنکھیں اس ظاہری روشنی سے فائدہ اٹھا رہی ہوں، روحانی آنکھیں پاکیزگی پھیلانے والی ہوں اگر ایسا ہو جائے تب تو زندگی کا کچھ مزہ ہے ورنہ یہ کیا زندگی ہے۔میں اپنی جگہ کڑھتا رہوں اور آپ اپنی جگہ گنہگار ہوتے رہیں کیا فائدہ اس زندگی کا ؟ پس ساری جماعت ایک ہو کر اس مقصد کے حصول کے لئے ہر وقت کوشاں رہے جس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس جماعت کو قائم کیا ہے یہ بھی صحیح ہے کہ دنیا مخالفت کرتی ہے لیکن یہ جماعت مٹے گی نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار جھنجھوڑا ہے اور کہا ہے کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو ورنہ میں ایک اور قوم پیدا کروں گا جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گی پھر تم نہیں ، وہ میرے فضلوں اور رحمتوں کے وارث ہوں گے میں سوچتا ہوں کہ وہ کیوں وارث ہوں ہم ہی کیوں وارث نہ ہوں ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور دعائیں بھی کرنی چاہئیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح رنگ میں اور اس طریق پر جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صحیح ہے نبھانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ہم پر ہی نازل ہو رہے ہوں اور ہمارے ہی ذریعہ سے وہ فضل غیر تک پہنچیں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔(آمین) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )