خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 378
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۸ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ہمارے لئے یہ سونے کا وقت نہیں اور نہ اگلی دو تین صدیاں ہمارے لئے سونے کا وقت ہے کیونکہ ہمارا کام ہے کہ ہم ایک دفعہ تمام بنی نوع انسان کو اسلام کے نور سے منور کر دیں اور پھر اس نور کو ان میں ٹھہرائے رکھیں یعنی اگلی نسلوں کی بھی اس رنگ میں تربیت کریں کہ وہ اس نور سے منورر ہیں اور دل چاہتا ہے کہ اس کے بعد بھی یہ نور قائم رہے لیکن تین صدیوں کی ذمہ داری تو اس نسل کو دے دینی چاہیے اور اس کے لئے جو کچھ ہو سکتا ہے کرنا چاہیے دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور تدبیر بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی قیامت تک اسلام کو ہی غالب رکھے قرآن کریم کی محبت دل میں قائم رہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانوں کے نیچے دبے رہنے کا احساس کبھی نہ مٹے کیونکہ آپ عظیم محسن ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کی رحمت بہت وسیع ہے اس کی ذات اور اس کی صفات کا صحیح علم حاصل رہے بنی نوع انسان کے دلوں میں اس پاک ذات کی محبت پیدا ہو جائے یہ ہمارا عزم ہے یہ ہمارا شوق ہے اسی کے لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پیدا کئے گئے ہیں پھر اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی بھول جائیں تو یہ بات میرے لئے کتنی تکلیف اور کتنے دکھ کا باعث ہو جاتی ہے کیونکہ مجھے اور بھی بہت ساری پریشانیاں رہتی ہیں آج کل احمدیوں کو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں اور بعض دفعہ بڑی پریشانی پیدا ہو جاتی ہے اور تو میں کچھ کر نہیں سکتا ہر وقت دعائیں کرتا رہتا ہوں جہاں تک جماعت کے دوستوں کے لئے ممکن ہوا نہیں مجھے پریشانیوں سے بچائے رکھنا چاہیے تا کہ دوسری جو پریشانیاں ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں یعنی جماعت کی پریشانیاں بھی اور افراد کی پریشانیاں بھی ، ان کے دور کرنے کے لئے میں جس حد تک ممکن ہو تد بیر میں مشغول رہوں یا دعائیں کرتا رہوں اور اصل چیز تو دعا ہی ہے۔یہ باتیں جو میں نے بتائی ہیں چھوٹی نہیں بلکہ بڑی اہم ہیں اور اثر کے لحاظ سے بڑی دُور رس ہیں ان کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہیے اور فوری توجہ کرنی چاہیے اور رمضان سے پہلے پہلے ربوہ کو بالکل صاف کر کے صاف ستھرا شہر بنا دینا چاہیے بعد میں رمضان آ جائے گا اور اس مہینہ میں اس کام کے لئے بہت تھوڑا وقت دیا جا سکے گا غرض شہر کو صاف رکھا جائے تا جلسہ سالانہ پر جولوگ ربوہ آئیں وہ ظاہری طور پر بھی ایک نہایت پاکیزہ شہر میں داخل ہو رہے ہوں۔پاکیزہ دل شہر میں