خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 374
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۴ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ایسا کہتا ہے اور قرآن کریم کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا جو حکم ہمیں ملا ہے اس حکم کا اجرا کیا جا رہا ہو تو لا تَأْخُذُكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ ( النور : ۳) پھر کسی کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اسے عارضی طور پر تکلیف ہوگی خدا تعالیٰ جو کامل رافت والا یعنی الرؤوف ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ کام نہیں ہونے دینا۔اگر ہم ایسا کریں گے تو ماں سے زیادہ چاہے پھیپھے کٹنی کہلانے والا معاملہ ہو جائے گا۔جب خدا تعالیٰ (جو الرؤوف یعنی کامل راحت والا ہے ) کے حکم کے نتیجہ میں کسی کو حقیقی ضرر نہیں پہنچتا تو ہم اس کے مقابلہ میں بڑے کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ بات خلاف عقل ہے خلاف اسلام ہے اور اس محبت کے جذبات کے خلاف ہے جو ہمارے دل میں خدا اور اس کے رسول کے لئے ہے اگر کسی کو تکلیف اس لئے ہوتی ہے تو صرف اس لئے کہ آپ اس کو غیر کا مال چوری نہیں کرنے دیتے۔سو اس کی تکلیف نا جائز ہے اور وہ حقیقی تکلیف نہیں ہے اس کی اصل تکلیف یہ ہے کہ وہ غیر کے اموال میں تصرف کرے اس تکلیف سے اسے نجات ملنی چاہیے کیونکہ اگر اس دنیا میں بھی اس کا بد نتیجہ نکلا تو وہ بہت بُرا ہو گا اور اگر یہاں بُرا نہ نکلا اور اُخروی زندگی میں بُرا نکلا تو پھر بڑا بھیا نک ہو گا کیا آپ اس بات کو پسند کریں گے کہ آپ کا ایک بھائی نانوے پہلو قربانی اور نیکی کے رکھتا ہو اور ایک پہلو اس کا غفلت کا ہو اور اس پہلو کے نتیجہ میں وہ اپنے پر جہنم کا ایک دروازہ کھول لے میں تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ میرے کسی بھائی یا بہن سے ناراض ہو اس لئے میں ہر وقت ان دعاؤں میں لگا رہتا ہوں کہ اے خدا! تو ہمیں اپنی پناہ میں لے لے ہم سب کو اپنی پناہ میں لے لے آپ کو بھی یہ دعا کرنی چاہیے۔جب ہم یہ دعا کرتے ہیں تو ساتھ ہی یہ سوچتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ سے یہ کہا جائے کہ وہ ہمیں اپنی پناہ میں لے لے اور خود یہ کوشش نہ کریں کہ ہم تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس کو اپنی ڈھال بنا ئیں یا اپنے بھائیوں کو اس طرف لے کر آئیں اور ان کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ وہ اللہ کو اپنی ڈھال بنانے والے ہوں تو یہ درست نہیں۔پس جو د کا نہیں غلط جگہوں پر ہیں وہ فوراً اُٹھا دی جائیں اور جو لوگ گندے کپڑے پہنتے ہیں ان کو صاف ستھرے کپڑے پہنے کی تلقین کی جائے۔خدام الاحمدیہ وقار عمل بھی منائے تا کہ اگر