خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 340
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۰ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء اُخروی نعمت ہمیں اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ کرے کیونکہ اس دنیا کی ملکیت بھی اس کے قبضہ میں ہے اور اس دنیا کی نعمتیں بھی اس کے ارادہ اور منشا کے بغیر کسی کومل نہیں سکتیں۔تمہیں (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ) جوتی کا ایک تسمہ بھی اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا منشا نہ ہو ہر چیز میں ہر وقت اور ہر آن تم محتاج ہو تمہارے اندر اپنے رب کی احتیاج ہے خدا تمہارا محتاج نہیں خدا تعالیٰ تو غنی ہے وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ حقیقی غنا اسی کی ذات میں ہے کوئی اور ہستی ایسی نہیں جس کی طرف ہم حقیقی غنا کو منسوب کر سکیں اور کہہ سکیں کہ اس کے اندرغنا پائی جاتی ہے اور وہ غنی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ صفاتِ باری کا مظہر بنتے ہوئے غنا کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق اپنے رب سے پائے پھر وہ ایک معنی میں غنی بھی بن جاتا ہے ایک معنی میں وہ ربوبیت بھی کرتا ہے اور رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے رحیمیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے وہ معاف بھی کرتا ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدین کے جلوے بھی دکھاتا ہے لیکن یہ سب نسبتی اور طفیلی چیزیں ہیں انسان اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق اور اس کی دی ہوئی توفیق سے صفات باری کا مظہر بنتا ہے اگر خدا کا سہارا نہ ہو تو پھر خدا تعالیٰ کی صفات کا کون مظہر بن سکے؟ ہاں جب اللہ تعالیٰ خود اپنا سہارا دیتا ہے اور اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اس کی صفات کا ملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بھی بنتا ہے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق بنتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا الغنی یعنی کامل غنا والی ذات تو اللہ کی ذات ہے اور وہ غنی ہونے کے لحاظ سے تمہارا محتاج نہیں اور الغنی کے اندر یہ مفہوم بھی آ گیا ہے (جس کو پہلے فقرہ میں کھول کر بیان کیا گیا تھا ) کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی احتیاج ہے تم زندہ نہیں رہ سکتے جب تک حتی خدا تمہاری زندگی کی ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو اور اپنی حیات کاملہ سے تمہیں ایک عارضی زندگی نہ عطا کرے تمہاری استعداد یں اور قو تیں قائم نہیں رہ سکتیں جب تک کہ خدائے قیوم کا تمہیں سہارا نہ ملے۔سب تعریفوں کی مالک اس کی ذات ہے اس لئے وہ تمہاری احتیاجوں کو پورا کرتا ہے اور تمہارے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ الحمد لله تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔