خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 331 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 331

خطبات ناصر جلد دوم ٣٣١ خطبه جمعه ۴ /اکتوبر ۱۹۶۸ء اے ہمارے ربّ! اپنی صفات عظیمہ کی اتباع اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے کی ہمیں توفیق بخش که اتباع قرآن کرنے والے متقی ہی تیری نظر میں تیری رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں جیسا کہ تو نے فرمایا فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام :۱۵۶) اے ہمارے رب ! ہمیں یہ یقین بخش کہ اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: ۵۷) ایمان اور اسلام کے تمام تقاضوں کو ان کی سب شرائط کے ساتھ پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ہمیں اپنی رحمت سے نواز۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ ہر چیز تیری خدمت گزار ہے اے میرے رب ! ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے ہماری مددکو آ اور ہمیں اپنی رحمت سے نواز۔اس دعا میں جس کے مختصر معنی اور مفہوم میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ سچی توحید اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت تامہ کا اقرار کرتے ہوئے اس کے حضور عاشقانہ خدمت بجالاؤ اور اس عاشقانہ خدمت سے ربوبیت تامہ کے حضور جھکو اور التجا کرتے رہو کیونکہ ربوبیت تامہ سے وہی فیض حاصل کرتا ہے جو رب کریم کی حفاظت میں آ جاتا ہے جسے اس کی عون و نصرت حاصل ہوتی ہے اور جو اس کی رحمت سے نوازا جاتا ہے اس کے بغیر یہ مکن نہیں ہے۔غرض اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے سچی توحید اور ربوبیت تامہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ دعا کیا کرو کہ اے وہ کہ جور بوبیت کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔اس کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور وہی ہے کہ اس کے ارادوں میں کوئی غیر روک نہیں بن سکتا اور ہر چیز کو اس نے مسخر کیا ہوا ہے وہ اس کام پر لگی ہوئی ہے جس کام پر اللہ ، رب کریم نے اسے لگایا ہے دنیا میں جس چیز پر چاہو، نگاہ ڈالوسورج، چاند اور آسمانوں کے ستارے، درخت، جھاڑیاں اور پھولوں کے پودے لعل و جواہر، زمرد، یاقوت، کوئلے کا پتھر یا چونے کا پتھر یا زمین کے سارے ذرے اور ان ذروں میں چھپی ہوئی ایٹمی توانائی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے مسخر کی ہوئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس تسخیر کے نتیجہ میں وہی کام کرتی ہے جس کا اس کا پیدا کرنے والا رب ارادہ کرے اور جس کا وہ فیصلہ کرے اور یہ خادم رب یہ کسی انسان کو کوئی مضرت اور کوئی دکھ اور کوئی ایذا نہیں پہنچا سکتے جب تک کہ اس کا ارادہ دکھ پہنچانے یا ایذا دینے یا مشقتوں میں ڈالنے کا نہ ہو اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر چیز کو