خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 21
خطبات ناصر جلد دوم ۲۱ خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء نے ہمارا ایک امتحان لیا اور اپنے فضل اور توفیق سے اس امتحان میں ہمیں کامیاب کیا جس کے نتیجہ میں ہمارے دلوں میں پہلے سے زیادہ بشاشت پیدا ہو گئی اور ہمارے ایمانوں کو تقویت حاصل ہوئی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - اس کے علاوہ جلسہ کے دنوں میں تقاریر کا ایک سلسلہ ہوتا ہے تقریروں کے متعلق جماعت بھی دعائیں کرتی ہے اور میں بھی ہر وقت اس فکر میں رہتا ہوں اور دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور دوسرے مقررین کو بھی ایسے رنگ میں تقاریر کرنے کی توفیق عطا کرے جو اس کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور جس کے نتیجہ میں جماعت کے دل تسلی پائیں۔ایک لاکھ کے قریب احمدی اور دوسرے دوست بڑی قربانی کر کے باہر سے آتے ہیں۔ان کے دل کو اطمینان اور بشاشت حاصل ہونی چاہیے اور یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ جس غرض کے لئے ہم یہاں آئے ہیں وہ غرض پوری ہوئی اور ہمارے کانوں میں اللہ تعالیٰ کی باتیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ایسے رنگ میں پڑے کہ ہمارے دل ان سے متاثر ہوئے اور ہماری روح نے ان سے روشنی حاصل کی۔یہ بھی نہ بھولنا چاہیے کہ کسی مقرر نے ہمارے جلسہ کو کامیاب نہیں کرنا جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص کی تقریر بڑی اچھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر جماعت کے دل تسلی نہیں پکڑ سکتے وہ بت پرست ہے اور مجھے خدا تعالیٰ نے ایک عزم عنایت کر کے اور بڑی ہمت دے کر بت شکن بنایا ہے۔ایسے بتوں کو توڑنا میرا فرض ہے اور خدا کی توفیق سے ایسے بت ٹوٹتے ہی رہیں گے اور خدائے واحد و یگانہ کے پرستاروں کا یہ قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔تقریر مقرر نے نہیں کرنی ہمارا ایمان ہے کہ تقریر اللہ تعالیٰ نے کروانی ہے وہ خود ہی مضمون سوجھا تا، زبان میں برکت دیتا اور اثر پیدا کرتا اور دلوں کو اثر قبول کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔کوئی انسان یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اپنی کسی ذاتی خوبی سے اس نے ایسا کیا جو ایسا سمجھتا ہے وہ میرے نزدیک احمق ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کے مقررین کو توفیق عطا کی کہ وہ بہترین نقار پر تیار کر سکیں ان کے الفاظ میں تاثیر پیدا کی اور سننے والوں کے دلوں کو اثر قبول کرنے کی توفیق عطا کی اس