خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد دوم ۲۲ خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء سلسلہ میں میرے پاس بیبیوں خطوط اور رپورٹیں آئی ہیں کہ زمینداروں نے بھی اور شہری لوگوں نے بھی خاص طور پر جلسہ کی تقاریر سے اثر قبول کیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - جہاں تک میری تقریروں کا سوال ہے میں اس وجہ سے بھی پریشان تھا اور بہت دعائیں کر رہا تھا کہ جلسہ سے معاقبل رمضان تھا اور رمضان کے روزے رکھنے کے نتیجہ میں ضعف اعصاب اور ضعف دماغ کی تکلیف مجھے شروع ہو گئی تھی ڈاک دیکھنا یا ملاقاتیں کرنا یا دوسرے کام جو ہیں وہ تو میں بہر حال کر رہا تھا بلکہ رمضان میں روزے کی وجہ سے بہت سا وقت بچ جاتا ہے جو دوسرے دنوں میں کھانے پینے پر خرچ ہوتا ہے اس لئے آدمی زیادہ وقت تلاوت یا کتب پڑھنے یا دعائیں کرنے یا عبادات بجالانے یا ملاقاتیں کرنے ، خطوط پڑھنے ، ان میں سے بہتوں پر دستخط کرنے اور نوٹ لکھنے وغیرہ وغیرہ میں خرچ کر سکتا ہے۔چنانچہ میں یہ سارے کام رمضان کے دنوں میں بھی کرتا رہا۔ماہ رمضان میں تو میری عادت یہ ہے کہ میں صبح کام پر بیٹھتا ہوں پھر نماز کے لئے اُٹھتا ہوں نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر دفتر میں بیٹھ جاتا ہوں اور مغرب کی اذان تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے روزہ کھلنے کا وقت ہوا تو دفتر سے گیا ، روزہ کھولا ، پھر تھوڑا سا آرام کیا، اس کے بعد پھر کام شروع کر دیا۔بعض دفعہ میں ۱۲ بجے رات تک کام کرتا رہتا ہوں لیکن میں نے محسوس کیا کہ میرے اعصاب میں بھی ضعف پیدا ہو گیا ہے اور ضعف دماغ کی بھی مجھے شکایت ہو گئی ہے اور مجھے یہ فکر پیدا ہوئی کہ اس ضعف کی حالت میں میں جلسہ کی ذمہ داریوں کو کیسے نباہوں گا اور میں نے کیا نباہنا تھا عاجزانہ دعاؤں سے اللہ تعالیٰ سے ہی تو فیق چاہی اور اپنی رحمت بے پایاں سے اس نے توفیق عطا کی۔ہزار ہا وہ دوست بھی جلسہ میں شریک ہوتے ہیں جن کا ابھی ہماری جماعت سے تعلق نہیں۔اس سال ایسے دوست بھی بہت کثرت سے آئے۔سرگودھا کے ایک غیر احمدی دوست اپنے ایک احمدی دوست کو ملے اور کہنے لگے کہ سرگودھا کے ہر شخص کو جسے میں جانتا ہوں میں نے جلسہ پر دیکھا ہے۔پس بڑی کثرت سے سرگودھا، لائل پور اور دوسری جگہوں سے دوست آئے انہوں نے جلسہ سے جو اثر لیا اور اس کے متعلق جو اظہار کیا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کی بہت سی